پاکستانی اداکار سہیل سمیر نے موجودہ دور میں شادیوں اور خاندانی نظام پر بات کرتے ہوئے کہا ہےکہ بعض والدین اپنی بیٹیوں کو اس سوچ کے ساتھ رخصت کرتے ہیں کہ وہ اپنے شوہر کو مشترکہ خاندان سے الگ کرلیں تاکہ انہیں ساس کے دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں سہیل سمیر نے کہا کہ بعض والدین اپنی بیٹیوں کی ایسی تربیت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ شادی کے بعد شوہر کو اس کے والدین سے الگ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کل بعض نئی دلہنیں یہ سمجھتی ہیں کہ شادی کے بعد سسرال کے گھر میں تمام اختیارات صرف ان ہی کے پاس ہونے چاہئیں اور شوہر کے والدین کو پسِ منظر میں چلے جانا چاہیے۔
سہیل سمیر کا کہنا تھا کہ بعض والدین اپنی بیٹیوں کو اس سوچ کے ساتھ رخصت کرتے ہیں کہ وہ اپنے شوہر کو مشترکہ خاندان سے الگ کر لیں تاکہ انہیں ساس کے دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن اکثر لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ساس بھی ایک عورت ہوتی ہے جو کبھی خود اسی طرح اپنے سسرال میں آئی تھی اور زندگی کے مختلف مراحل سے گزری ہوتی ہے۔
سہیل سمیر نے گفتگو کے دوران لڑکیوں کی قربانیوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ایک لڑکی اپنے والدین، گھر اور مانوس ماحول کو چھوڑ کر ایک نئے خاندان میں جاتی ہے جو ایک بہت بڑی قربانی ہے، اسی لیے شوہروں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور انہیں عزت، محبت اور احترام دیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک باپ اپنی بیٹی کو بڑی امیدوں اور اعتماد کے ساتھ رخصت کرتا ہے، اس لیے نئی دلہن کو اس کے نئے گھر میں محبت، عزت اور تحفظ فراہم کرنا شوہر اور اس کے خاندان کی ذمے داری ہے۔


























Leave a Reply