اوپر موجود تصویر میں خاتون کے ہاتھ میں موجود بچے کو دیکھیں اور اس کی عمر کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں۔
درحقیقت یہ بچہ نہیں بلکہ اس کی عمر 25 سال ہے مگر دیکھنے میں یہ بہت چھوٹا نظر آتا ہے۔
چین کے صوبے ہونان سے تعلق رکھنے والے وانگ جیون منگ کا جسمانی حجم کسی بچے جتنا ہے۔
ان کا قد 66 سینٹی میٹر ہے مگر آئی کیو لیول کسی بچے جتنا ہے اور 21 سالہ بہن سمیت پورا خاندان ان کے نخرے اٹھاتا ہے۔
انہیں اپنی عمر کے افراد کی طرح تعلیم اور ملازمت کے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں اور وہ ہمیشہ رات 8 بجے سے پہلے سو جاتے ہیں۔
وانگ گزشتہ دنوں انٹرنیٹ پر اس وقت وائرل ہوئے جب ان کی بہن شیاؤلنگ نے اپنی روزمرہ کی زندگی کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کا خیال رکھتی ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق وانگ کو pituitary hormone deficiency نامی عارضے کا سامنا ہے جس کے دوران pituitary گلینڈز ایسے ہارمونز کو بنانے سے قاصر ہوتے ہیں جو نشوونما اور میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہیں۔
اس کا سامنا بہت کم افراد کو ہوتا ہے اور عموماً 6 ماہ سے 3 سال کی عمر کے درمیان اس کی تشخیص ہو جائے تو مناسب علاج سے نشوونما کو بحال کیا جاسکتا ہے۔
وانگ کے والدین بھی انہیں بچپن میں اسپتال لے کر گئے تھے اور ادویات لی تھیں مگر یہ خاندان بہت غریب تھا جس کی ماہانہ آمدنی محض 3 ہزار یوآن تھی، تو علاج کو جاری نہیں رکھا جاسکا۔
وانگ کی والدہ توہم پرست ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ان کی بدقسمتی کے باعث ان کا بیٹا ایسا ہے اور انہیں ہی زندگی بھر اس کا خیال رکھنا ہوگا۔
اینڈوکرائنولوجسٹ ڈینگ چاؤ کا تعلق سیکنڈ شیانگا ہاسپٹل سے ہے اور انہوں نے تشخیص کے بعد وانگ کا علاج کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ نشوونما کو ریگولیٹ کرنے والے ایک جین میں مسائل کو دریافت کیا گیا تھا اور ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ایسے محض 114 مریض ہیں، جن میں سے بیشتر مناسب علاج کے بعد ٹھیک ہوگئے۔
وانگ کی ابھی ہارمون تھراپی چل رہی ہے مگر ڈینگ چاؤ کے مطابق یہ پیشگوئی کرنا مشکل ہے کہ اس سے وانگ کو کتنا فائدہ ہوسکتا ہے۔
وانگ کی بہن شیاؤلنگ جب پرائمری اسکول میں تھی جب ان کی والدہ میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔
شروع میں شیاؤلنگ اپنے بھائی سے دور رہتی تھیں مگر جب والدہ کے کیسنر کی تشخیص ہوئی تو انہوں نے وانگ کا خیال رکھنا شروع کیا۔
اگرچہ اب والدین چاہتے ہیں کہ شیاؤلنگ اپنی زندگی گزارے مگر وہ اپنے بھائی کا خیال رکھنا چاہتی ہیں۔
وہ وانگ کو گود میں اٹھا کر لے کر جاتیں اور بھائی کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتیں۔
وقت کے ساتھ وانگ کسی حد تک بہتر ہوگئے اور بہن کو پہچاننے لگے۔
ان کی والدہ بھی کرشماتی طور پر کینسر کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئیں، مگر شیاؤلنگ اب بھی بھائی کا خیال رکھتی ہیں اور نرسنگ اسکول سے گریجویشن کرنے کے بعد کسی بڑے شہر میں جانے کی بجائے گھر کے قریب ایک کلینک میں کام کرنے لگیں۔
وہ اپنے بھائی کو علاج کے لیے بھی لے جاتی ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایسا ممکن ہے کہ خود چلنے کے قابل ہو جائیں اور ذہانت بھی بڑھ جائے، مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی ہڈیاں ان کے بڑھتے وزن کو برداشت کرسکیں گی یا نہیں۔
البتہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس عارضے سے وانگ کی زندگی کی مدت متاثر نہیں ہوگی۔
شیاؤلنگ کے مطابق وہ نوڈل اسٹال اور لائیو اسٹریمنگ سے پیسے کما کر بھائی کا علاج کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔


























Leave a Reply