متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما امین الحق کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کے انٹرا پارٹی الیکشن اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کرائے جائیں گے۔
جیو نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے امین الحق نے کہا کہ پہلے رابطہ کمیٹی یا مرکزی کمیٹی کا انتخاب ہوگا پھر وہ طے کرے گی کہ کنوینر اور ڈپٹی کنوینر کون ہوگا۔
ایم کیوایم پاکستان نے مئی 2024 میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو پارٹی چیئرمین منتخب کرلیا ہے، اس انتخاب نے جہاں بکھری پارٹی کو ایک چھتری تلے جمع کیا تھا وہیں ایم کیوایم کے بہت سے پرانے رہنماوں اور ماضی میں اہم عہدوں پر تعینات شخصیات نے انتخابی عمل کو ایم کیوایم کے آئین کی روح کی صریح خلاف ورزی قراردیا تھا تاہم پاکستان میں فعال قیادت نے معاملہ کسی نہ کسی طرح تاحال نبھایا ہوا ہے۔
سیاسی عمل میں حصہ لینے والی جماعتوں میں لیڈروں کا باضابطہ چناؤ ایک لازم اقدام ہے، الیکشن کمیشن نے ایم کیوایم پاکستان کو15 اکتوبر تک انٹراپارٹی الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے۔
ایم کیوایم کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کے سامنے اپریل 2026 میں پیش ہوئے تھے۔
الیکشن کمشنر کو اسی ادارے کے ڈائریکٹرجنرل کی جانب سے اس وقت آگاہ کیا گیا تھا کہ پارٹی کے قانونی تقاضوں کے تحت ایم کیوایم نے16 اکتوبر 2025 میں انتخابات منعقد کرانا تھے۔
ای سی پی نے ایم کیوایم کو ہدایت کی تھی کہ پارٹی انتخابات16 جنوری تک کرالیے جائیں، تاریخ بڑھا کر پہلے16 مارچ کی گئی اور پھر ایم کیوایم کی درخواست تھی کہ اسے دسمبر تک کا وقت دیدیا جائےتاہم اب ایم کیوایم کو یہ عمل15 اکتوبرتک بہرصورت مکمل کرنا ہے۔
موجودہ ایم کیوایم 3 دھڑوں پر مشتمل ہے جو پہلے خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور مصظفی کمال کی علیحدہ علیحدہ قیادت میں قائم تھے۔
موجودہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور ایم کیوایم میں غیرمعمولی تنظیمی صلاحیتوں کے مالک انیس قائمخانی نے23 مارچ سن 2016 کو پاک سرزمین پارٹی بنائی تھی جسے3 سال پہلے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں ضم کردیا گیا تھاجس کے بعد پچھلے سال الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ایس پی کی رجسٹریشن ختم کردی تھی۔
تینوں دھڑوں کے انضمام کے بعد الیکٹرول لسٹ میں کس دھڑے کے کتنے افراد ہیں،یہ معاملہ بعض افراد کے نزدیک انٹراپارٹی الیکشن میں ٹیڑھی کھیر ثابت ہوسکتا ہے۔
شاید یہی وجہ تھی کہ انٹراپارٹی انتخابات کی بات سامنے آئی تومصطفیٰ کمال نے بعض خدشات کا اظہار کیا تھا، بتایا تھا کہ انٹراپارٹی الیکشن سے وہ قطعی طور پر لاعلم تھے، میڈیا سے علم نہ ہوتا تو بڑی دھاندلی متوقع تھی، انہوں نے کارکنوں کو ہدایت دی تھی کہ انتخابات کی تیاری کریں اور واضح کیا تھا کہ وہ ایم کیوایم میں شفاف انتخابات یقینی بنائیں گے۔
اس سوال پر کہ آیا پارٹی میں الیکشن کیلیے الیکٹرول لسٹ کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، امین الحق نے بتایا کہ الیکٹرول لسٹ ترتیب دینے کے مراحل میں ہے، یہ عمل باہمی رضا مندی، جمہوری طریقہ کار اور اتفاق رائے سے انجام دیا جائے گا جس کے بعد منصفانہ طریقے سے انٹراپارٹی الیکشن کرائے جائیں گے۔
اس سوال پر کہ کیا خالد مقبول صدیقی، مصطفی کمال، فاروق ستار یا کامران ٹیسوری ایک دوسرے کیخلاف کنوینر کا الیکشن لڑیں گےیا یہ عمل بھی باہمی اتفاق رائے سے طے کیا جائےگا؟
امین الحق نے کہا کہ ایم کیوایم ایک جمہوری پارٹی ہے، اس کے آئین کے تحت رابطہ کمیٹی ہی اصل فورم ہے، وہ جسے چاہے گی، کنوینر اور ڈپٹی کنوینر کا انتخاب کرے گی، یہ عمل جمہوری طریقے اور اتفاق رائے سے مکمل کرکے باوقار طریقے سے آگے بڑھا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن باوقار انداز سے انجام دیے گئے تو ایم کیوایم رہنماوں کے آپسی اختلافات کا فائدہ اٹھانے والی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کم سےکم کراچی اور حیدرآباد میں من مانی نہیں کرسکیں گی۔


























Leave a Reply