فیس بک پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب کے پہاڑی تفریحی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (کنواروں) کے داخلے پر باقاعدہ سرکاری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ بیچلرز کو شہر میں آنے کی اجازت ہے؛ انہیں صرف اس مہینے مری کے مشہور مال روڈ پر داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔
دعویٰ
ایک فیس بک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عید سے قبل مری شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مری کے مشہور مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت ہوگی اور 31 مئی تک بیچلرز کے شہر میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
اسی طرح کے دعوے فیس بک پر دیگر مقامات پر بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
حقیقت
مری شہر میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم، حکام نے تصدیق کی ہے کہ مردوں کے گروپس یا فیملیز کے بغیر اکیلے آنے والے مردوں کو مری کے مال روڈ پر داخلے کے لیے پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر نے جیو فیکٹ چیک سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت بیچلرز کو مال روڈ پر داخل ہونے سے روکا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ”مال روڈ کے اوپر الاؤڈ (allowed) نہیں ہیں، سوائے فیملی کے الاؤ نہیں ہے، پورا مری بین (ban) نہیں ہے اس کے لیے، مری میں (بیچلرز) کی انٹری بین نہیں ہے۔“
ڈپٹی کمشنر مری کے فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری کردہ سرکاری نوٹیفیکیشن شیئر کیا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ مری کی ڈسٹرکٹ پولیس نے سفارش کی تھی کہ سیاحوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی جائے۔
فیصلہ: یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ مری شہر میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ پابندی صرف مال روڈ تک محدود ہے، جہاں حکام نے دفعہ 144 کے تحت صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دی ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply