چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے میں چاہتا ہوں کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا فیصلہ اسلام آباد میں بیٹھا بابو نہیں آپ کریں۔
حلقہ جی بی اے 12 شگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں تو پوری پی ڈی ایم کو ناراض کرکے آپ کے پاس آیا تھا، ایک بار پھر یہاں آپ کا ساتھ مانگنے آیا ہوں، آپ نے کبھی پیپلزپارٹی کو کبھی مایوس نہیں کیا، وہ غلط فہمی میں تھے کہ عوام کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ قائد عوام نے روٹی،کپڑا اور مکان کے نعرے پر عمل بھی کیا تھا، پاکستان ایٹمی قوت بن کر آج دنیا کے سامنے مضبوط ہوکر کھڑا ہے، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پسماندہ طبقوں کی نمایندگی کی، قائد عوام نے گلگت بلتستان کے کمزور عوام کا ساتھ دیا، آپ نے قائد عوام کا ساتھ دیا،قائد عوام نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنادیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا آج بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان میں صاف و شفاف الیکشن ہوں، آپ کو فارم 45 ہاتھ میں لیکر واپس جانا ہے، آپ نے میرا ساتھ دینا ہے، فارم 47 کا بندوبست میں خود کروں گا، امید ہے ہماری کوئی سیٹ اس بار چوری نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن اسی وقت ہوں جب پاکستان میں جنرل الیکشن ہوں، جب گلگت بلتستان اور پاکستان کا الیکشن ساتھ ہوا پھر صحیح معنوں میں حق حاکمیت یقینی ہوگی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا وہ ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہتے ہیں، گوادر اور کراچی کو بھی اسلام آباد سے چلوانا چاہتے ہیں، اسلام آباد والے جو فیصلے کرتے ہیں آپ نے اس کا نقصان بھگتا ہے، دیگر پارٹیاں گلگت بلتستان اور گوادر کو بھی اسلام آباد سے چلانا چاہتی ہیں، اگر وفاق کنگال ہے تو سب سے پہلے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی وزارت بند کرے، میں چاہتا ہوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا فیصلہ اسلام آباد میں بیٹھا بابو نہیں،آپ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لائے، شگر سے لے کر بلوچستان کے ساحلوں تک خواتین کو سایہ ملتا ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا تحفظ صرف پیپلزپارٹی کرسکتی ہے، دیگر جماعتیں کسی نہ کسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتی ہیں، اب ان کی نئی سوچ ہے کہ یہ پروگرام صوبوں کے حوالے کریں، دنیا بھر میں وفاقی حکومت یہ ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے کا مطلب پروگرام بند کرنا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا میں بطور وزیر خارجہ افغانستان کو کہتا تھا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ماڈل بنائیں اور غریبوں کی مدد کریں، یہاں ایسی سیاسی جماعتیں جو اپنے ہی کامیاب منصوبےکو بند کرنےکی سازش کررہی ہیں، لیکن ہم ان کی تمام سازشیں ناکام بنائیں گے۔


























Leave a Reply