Preloader

کراچی : ڈیفنس فیز 8 میں وحشیانہ تشدد کے شکار نوجوان علی جعفری نے کہا ہے کہ اس روز مجھے دھوکے سے گیمنگ زون لے جایا گیا تھا۔

علی جعفری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی فیصل ڈیڈ شاٹ گیمنگ کرتا ہے، ایک ہفتے سے مفرور ہے، وہی مجھے بہانے سے گیمنگ زون لے کر گیا، وہاں ابراہیم شاٹی آگیا۔

متاثرہ نوجوان کے مطابق یہ لوگ مجھے اسلحے کے زور پر گاڑی میں ساتھ لے کرگئے اور فیز 8 میں خالی میدان میں پھینک دیا۔

ان لوگوں نے مجھ سے کہا کہ معافی مانگو، انہوں نے جو کہا میں نے کیا، مجھےکہا گیا اپنے گھر سے پیسے بھی منگواؤ ہمیں نشے کرنے ہیں۔

علی جعفری نے بتایا کہ رات کو جاب کرتا ہوں اور صبح کلاسز لیتا ہوں، میری فیملی کی ویڈیوز دکھا کر مجھے بلیک میل کیا گیا، میں نے آج تک کسی سے لین دین نہیں کیا۔

متاثرہ نوجوان کا مزید کہنا تھا کہ میری فیملی سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، آج میں نہیں بولوں گا تو کل کسی اور کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

گزشتہ روز علی جعفری کے ٹیچر عبداللہ جمال نے ساحل تھانے کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بچوں نے علی پر ظلم کیا اور والدین معاملے کو سلجھانا چاہتے تھے، پولیس نے ہمیں 2 گھنٹے انتظار کرایا کہ دونوں فیملیوں میں رضا مندی ہو جائے، لیکن ہمیں علی کے لیے انصاف چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ پیسوں کے لین دین کا معاملہ تھا، ایسا کچھ نہیں ہے، علی جعفری کے دوست فیصل نے اسے بلایا تھا، لین دین کا مسئلہ نہیں ہے، اگر تھا بھی تو کیا اٹھا کر لے جاؤ گے اور وحشیانہ تشدد کرو گے؟ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *