Preloader

کرکٹ انگریزوں کا کھیل تھا۔ انیسویں ویں صدی کی آخری دہائی میں ہندوستان میں متعارف ہوا۔ ابتدا میں بمبئی، موجودہ ممبئی میں وہاں کے ایک گورنر لارڈ پاک کی سرپرستی اور پارسیوں کی دل چسپی کی وجہ سے کرکٹ کو شہرت ملی۔ پھر مہاراجہ پٹیالہ کی سرپرستی میں پٹیالہ اور علی گڑھ کالج اور یو نیورسٹی کی ٹیم نے بلّے بازی (کرکٹ) کے کھیل میں شہرت حاصل کی۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد علی گڑھ کرکٹ سب سے بازی لے گئی۔ ان ٹیموں کے نامور کھلاڑیوں کو شہرتِ دوام ملی۔

سر سید احمد خاں۱۸۷۰ء میں اپنے صاحبزادے سید محمود کے ہمراہ لندن گئے تو وہاں کے قیام کے دوران عالمی شہرت کی اقامتی درس گاہوں آکسفورڈ اور کیمبرج کے نظام درس و تدریس کا بغور جائزہ لیا۔ انہیں لندن میں وہاں کے مقبول عام کرکٹ کا کھیل دیکھنے کا کئی بار موقع ملا۔ انہوں نے قیام لندن کے دوران ہی دارالعلوم علی گڑھ کے لئے کالج میگزین تہذیب الاخلاق کے اجرا کا فیصلہ کیا۔ کرکٹ کو بھی علی گڑھ میں متعارف کرانے کا فیصلہ سر سید احمد نے وہیں کیا۔

۱۸۸۰ء میں کالج کی سطح پر کھیل کی ابتدا ہوئی۔ سر سید احمد اکثر نیٹ پریکٹس دیکھنے بھی آجاتے اور میچ دیکھنے کے لیے تو پورا وقت موجود رہتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر میں علی گڑھ کرکٹ ٹیم کے چرچے ہونے لگے اور جلد ہی انگریزوں کے اس کھیل میں علی گڑھ ٹیم نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے اور کرکٹ میں ایسی شہرت اور مقبولیت حاصل کر لی کہ علی گڑھ کرکٹ ٹیم کامیابی کی علامت بن گئی۔ ٹیم کے بعض کھلاڑیوں کا اس میں بہت بڑا حصہ ہے۔ آئیے اس کرکٹ کی داستان کے بارے میں ایک معروف کھلاڑی شخصیت سے گفتگو کرتے ہیں جن کے ساتھ آج کی نشست بہت انتظار کے بعد ممکن ہوئی۔

جناب مسعود صلاح الدین (علیگ) پاکستان ریلوے کے چیف آپریٹنگ سپرنٹنڈنٹ کے منصب سے ریٹائر ہوئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن لاہور کے صدر ہیں۔ دراز قد، مضبوط ڈیل ڈول، خوش اخلاق اور اسپورٹ مین اسپرٹ ان کی پہچان ہے۔ ان کا آبائی تعلق جالندھر، اب مشرقی پنجاب بھارت سے تھا۔ ان کے خاندان کے پانچ کرکٹ کھلاڑی علی گڑھ ٹیم کے کپتان ہوئے۔

ایک نامور کھلاڑی، وہ بھی کرکٹ کا آل راؤنڈر، کا کھیل نامہ لکھنا تو شاید اتنا مشکل نہ ہوتا۔ لیکن ماشاء اللہ علی گڑھ کرکٹ ٹیم کے ایک ہی خاندان کے پانچ کھلاڑیوں کا کرکٹ نامہ لکھنا کار دارد۔ علی گڑھ کے ان نامورانِ کرکٹ کا سنہری دور اسّی (۸۰) سال پر محیط ہے۔ ایک مختصر مضمون میں مجھے اس مشکل کا سامنا ہے کہ کس کے کون سے کارنامے کا ذکر کیا جائے اور کس کارنامے کو چھوڑا جائے۔ مگر چلیں دیکھتے ہیں۔ علی گڑھ کرکٹ کی ابتدا سے ہی اس خاندان کے کارناموں کا تسلسل شروع ہو جاتا ہے۔ مسعود صلاح الدین کے بڑے ماموں عبد اللہ کپتان (۹۸-۱۸۸۷ء) کا شمار علی گڑھ کرکٹ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے (مولانا) شوکت علی کی رفاقت میں انتھک محنت اور لگن کے ساتھ مختصر عرصہ میں علی گڑھ ٹیم کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ ان میں قیادت کی قدرتی صلاحیت تھی۔ (مولانا) شوکت علی (۱۹۰۰ء) میں کامیاب کپتان رہے۔ ان کے چھوٹے بھائی (مولانا) محمد علی جوہر بھی کرکٹ میں بہت دل چسپی رکھتے تھے۔ وہ انتظامی معاملات، کھیل کے تبصروں اور کھیل کے دوران کھلاڑیوں کو بلا شیری Buck Up دینے میں سب سے آگے ہوتے۔ مسعود صلاح الدین کے چھوٹے ماموں اکرم (۰۵-۱۹۰٦ء) میں کپتان ہوئے اور والد سلام الدین (۰۸-۱۹۰۷ء) میں کپتان بنے۔ چھوٹے بھائی نسیم الظفر (۴۴-۱۹۴۳ء) میں کپتان تھے۔ مسعود صلاح الدین کو خود یہ اعزاز (۳۷-۱۹۳۲ء) کے عرصہ میں حاصل رہا۔ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد (۷۸ – ۱۹۴۷ء) کے دوران پاکستان میں کرکٹ کے لیے شاندار اور قابل قدر خدمات انجام دیں اور بالآخر (۷۹ – ۱۹۷۸ء) میں کرکٹ سے اس وقت علیحدگی اختیار کر لی جب Mr Packer نے کرکٹ کو کاروبار بنا دیا اور کھیلنے کے لیے حق الخدمت کے طور پر پیسے لینے کا رواج شروع ہوا۔ جس کی انتہا اس جنگوں، بحرانوں اور ترقی کی صدی کے اختتام کے ساتھ دنیائے کرکٹ میں Match Fixing کی رسوا کن خبروں کی سرخیاں عالمی میڈیا کی زینت بنیں اور دنیائے کرکٹ کے عالمی شہرت یافتہ کرکٹرز ملوث ہونے کے نتیجہ میں نہ صرف بدنام ہوئے بلکہ ہیرو سے زیرو ہو گئے۔ مگر اس کرشمالی کھیل کو یک روزہ میچوں کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ سہ فریقی ٹورنامنٹ، چمپین ٹرافی، شارجہ کپ اور ورلڈ کپ کے مقابلوں کو دنیا بھر میں شائقین کرکٹ کے ناظرین کے لیے مواصلاتی رابطوں سے ٹیلی ویژن پر دیکھنے کی اور دل چسپ رواں تبصرے سننے کی سہولت ہونے مزید برآں ٹرانسٹر ریڈیو سے دیہات تک میں چلتے پھرتے رننگ کمنٹری سننے کی صلائے عام نے لوگوں کو کرکٹ کا دیوانہ بنا دیا۔ البتہ ایک یہ فائدہ ہوا کہ حساب میں زیرو ہونے کے سبب اسکول سے بھاگنے والوں کو بھی رنز اور رن ریٹ کی حد تک جمع تفریق وغیرہ کا حساب لگانا آگیا۔ اکثر ان پڑھ اور انگریزی میں معمولی شد بد رکھنے والے کرکٹ کی Terminology میں بات کر کے اپنے جیسوں پر رعب جھاڑتے بھی دیکھے گئے ہیں۔

الغرض یہ کھیل ہر طبقہ، ہر عمر کے مرد اور خواتین میں یکساں مقبول ہے۔ پاکستان اور بھارت جو اس کھیل میں روایتی حریف بن گئے ہیں ان کے درمیان ٹیسٹ میچوں میں دونوں اطراف کے عوام کا ذوق و شوق قابل دید ہوتا ہے۔ گلیاں اور سڑکیں سنسان اور ہر طرف ہُو کا عالم ہوتا ہے۔ شائقین کی نظر میں ٹیلی وژن پر اور کان ریڈیو کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔ بجلی چلی جائے تو واپڈا کو برا بھلا کہا جا رہا ہے۔ مقابلہ سنسنی خیز لمحات میں داخل ہو جائے تو زیادہ اشتہار دکھانے اور سنانے پر ٹیلی وژن اور ریڈیو کو کوسا جا رہا ہے۔ اپنی ٹیم کے ایک ایک رن پر اور ہر بال پر واہ واہ کا شور ہو رہا ہے اور زور یوں لگایا جا رہا ہے جیسے خود فیلڈ میں ہوں۔ بعض بزرگوں کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ ہم سے اپنے بچوں کو پاکستانیت کی روح سے آشنا کرانے کا فریضہ ادا کرنے میں جو کوتاہی ہوئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ مقابلے اس کے ازالے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔

(تہذیب الاخلاق، لاہور میں‌ شامل رانا صفدر جنگ کی تحریر سے اقتباس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *