کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بہن بھائی پر تشدد کے واقعے میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کے رشتے داروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تشدد کے واقعے کا مقدمہ درخشاں تھانے متاثرہ افراد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں تشدد میں ملوث خاتون سمیت تینوں افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے میں ہنگامہ آرائی، تشدد، املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں اور زبردستی پراپرٹی میں داخل ہونے، مختلف ہتھیاروں سے تشدد کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ڈیفنس میں بااثر خاتون کی جانب سے بہن اور بھائی پر تشدد کے واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کر کے ایڈیشنل آئی جی کو بھجوادی تھی۔
رپورٹ میں سنگین غفلت اور اختیارات کے غلط استعمال کا انکشاف کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور ان کے خلاف ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رول 2020 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فوٹیج میں متاثرہ فیملی پر تشدد کرنے والے تمام افراد ایس ایس پی فدا جانوری کے قریبی رشتے دار ہیں اور انہوں نے اس معاملے میں انتظامی غفلت کا مظاہرہ کیا۔
یہ پڑھیں: ’کراچی ڈیفنس میں خواتین کا جھگڑا، نور العین کے جسم پر تشدد کے 8 نشانات آئے‘
رپورٹ کے اہم نکات کے مطابق متاثرہ فیملی کے خلاف درج کیے گئے مقدمے کو ‘بی کلاس’ (خارج) قرار دے دیا گیا جبکہ اس کے برعکس متاثرہ فیملی کی مدعیت میں نیا مقدمہ درج کرنے اور فوٹیج میں واضح طور پر نظر آنے والی دو خواتین اور ایک مرد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں ڈسٹرکٹ کورنگی کے 4 اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ ایس ایچ او درخشاں راشد علی، ایس آئی او عمران اور موبائل افسر آفتاب منگی کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کا کہا گیا۔ انکوائری کمیٹی کا مؤقف تھا کہ اس پورے واقعے سے متعلق انتہائی شفاف تحقیقات عمل میں لائی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ ڈیفنس میں بھائی اور بہن پر ایس ایس پی فدا جانوری کے رشتے داروں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور ان کے فلیٹ میں لگا کیمرہ بھی توڑ دیا تھا۔
