Preloader

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ خبردار کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں بھی سندھ کی تقسیم پر بات نہیں ہوسکتی۔

سندھ اسمبلی اجلاس سے ایم کیو ایم نے واک آؤٹ کیا اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکان ایوان میں آئے ہی نہیں۔

وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ نے اسمبلی میں آج بھی دھواں دار تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں۔ خبردار۔ تم سندھ کے ٹکڑے کرنے، سندھ کے حصے کرنے کی بات بھی نہیں کرسکتے۔

انہوں نے اپوزیشن بنچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا آج ثابت ہوگیا کون دوغلا پن کررہا ہے یہ وہی ہیں جو ادھرسے غائب ہوگئے ہیں، سندھ کی تقسیم کی بات وہ کررہے ہیں جنہوں پاکستان کو چوسا ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال کہتے ہیں انتظامی یونٹس چاہتے ہیں، ایم کیو ایم والے یہاں کہتے ہیں سندھ تقسیم نہ ہو، یہ ہوتا ہے دوغلا پن، ایم کیو ایم والےکس کو بے وقوف بنا رہے ہیں، ان میں سے ایک بھی انتخاب جیتا ہوا نہیں ہے۔ اگر یہ عوام کے ووٹ سے آئے ہوتے تو شاید ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی، ان اراکین میں سےکسی ایک نے بھی عوام کے ووٹ سے کامیابی حاصل نہیں کی، ان اراکین کے انتخاب کے حوالے سے تفصیلات مناسب وقت پر سامنے رکھ سکتا ہوں، بعض اراکین انتخاب کے بجائے مخصوص طریقہ کار کے تحت ایوان میں پہنچے۔

یہ پڑھیں: سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی سے منظور

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی بحث میں صرف آبادی کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا، بات گورننس کی ہے تو بہتر بنانےکے لیے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے معاملے پر ضرور تفصیلی بحث ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامی امور کو سندھ کی تقسیم کے معاملے کے ساتھ مکس نہیں کیا جانا چاہیے، ضرورت پڑی تو سندھ میں مزید اضلاع اور انتظامی یونٹس بھی بنائے جاسکتے ہیں، مقامی حکومتوں کو مزید مضبوط بنانا بھی ہماری ترجیح ہے، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے قانون میں مزید ترامیم لانے پر کام جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *