امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عرب رہنماؤں سے ہفتے کو ٹیلیفون پر کی گئی بات چیت کے مندرجات مبینہ طور پر افشا ہوگئے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے عرب رہنماؤں سے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کھولنے کےلیے صرف اسی صورت میں ایران سے امن ڈیل کریں گے اگر عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات معمول پر لے آئیں گے۔
مشرق وسطی کے جن ممالک کے رہنما کانفرنس کال پر صدر ٹرمپ کے ساتھ تھے ان میں سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کے رہنما شامل تھے۔
ٹیلیفون کال امریکا ایران جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق پیشرفت پر بات کیلئے کی گئی تھی۔
تاہم صدر ٹرمپ نے ایسی اقوام پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سے تعلقات قائم کریں جو انیس سو اڑتالیس سے ہی اسرائیلی ریاست کی مخالف ہیں۔
ایگزیوس نیوز ویب سائٹ کےحوالے سے ڈیلی میل نے بتایا کہ عرب رہنما صدر ٹرمپ کے مطالبے پر اس قدر حیرت ذدہ تھے کہ انہوں نے جواب ہی نہیں دیا اور مکمل طور پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔
صدر ٹرمپ نے بات مکمل کی تو کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی اس پر صدر ٹرمپ نے ازراہ مذاق پوچھا کہ کیا یہ رہنما ٹیلیفون کال پر تاحال موجود بھی ہیں تاہم اس پر بھی سکوت نہ ٹوٹا۔
اس صورتحال میں صدر ٹرمپ نے ٹیلیفون کال یہ کہہ کر ختم کردی کہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے معاملے پر ان کے نمایندے جیرڈ کُشنر اور اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتوں میں رابطہ کریں گے۔
واضح رہے کہ پیر کو امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک سے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے کہاکہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے اور دیگر ممالک ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں، آغاز سعودی عرب اور قطر سے ہونا چاہیے، ممکن ہے ایک دو ممالک کے پاس ابراہیمی معاہدے میں شامل نہ ہونے کی وجہ ہو اسے قبول کیا جائے گا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جن ممالک نے معاہدے پردستخط کیے یہ ان کےلیے مالی،معاشی اور سماجی ترقی کا ایک انقلاب ثابت ہوگا، یہ ایسی دستاویز ہوگی جس کا احترام دنیا میں اب تک دستخط ہونے والی کسی بھی دستاویز سے زیادہ ہوگا۔


























Leave a Reply