کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی پرو وائس چانسلر پروفیسر جہاں آرا حسن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سالانہ 4 لاکھ افراد بلڈ پریشر کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔
ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیا لوجی کے زیراہتمام عالمی یوم فشار خون کے موقع پر منعقدہ آگہی سیمیناراور پینل ڈسکشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر جہاں آرا حسن نے کہا کہ دنیا بھر میں ایک ارب 40 کروڑ افراد ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہیں، ہر سال دنیا بھر میں 10 ملین لوگ بلند فشار خون کے باعث انتقال کر جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ تعداد 4 لاکھ ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلند فشار خون بہت سی پیچیدہ بیماریوں کا سبب بنتا ہے جن میں فالج، عارضہ قلب، گردوں کی بیماری اور بینائی کی ابتری شامل ہیں۔
پروفیسر جہاں آرا حسن کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی نے کراچی میں اپنے تمام 100 سے زائد لیب کلیکشن یونٹس کو بنیادی صحت کی فراہمی کے مراکز کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جہاں بلند فشار خون کی مانیٹرنگ اورعلاج کی سہولت بھی موجود ہوگی۔
دوران سیمینار مقررین کا کہناتھا کہ پاکستان میں 33 ملین افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں جس میں صرف 12 فیصد کا بلڈ پریشر کنٹرول ہے جبکہ ان میں سے 50 فیصد افراد اپنے ہائی بلڈ پریشر سے لا علم ہیں، مزید برآں ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ہارٹ اٹیک اور فالج کے مرض میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔


























Leave a Reply