اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں ایک فضائی حملے کے دوران حماس کے اعلیٰ ترین عسکری کمانڈرعزالدین الحداد کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق عز الدین الحداد کو حماس کے عسکری ونگ کا سربراہ اور 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے اہم منصوبہ سازوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور وہ اسرائیل کو سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق تاحال حماس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک سینیئر اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق غزہ سٹی میں حالیہ فضائی حملے میں عزالدین الحداد کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے تاہم فوج کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو عزالدین الحداد کو ہدف بنانے کا حکم دیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ عزالدین الحداد ہزاروں اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت، اغوا اور ان پر حملوں کے ذمہ دار تھے اور انہوں نے یرغمالیوں کو حراست میں رکھا اور اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کی قیادت کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ تمام دشمنوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ اسرائیل جلد یا بدیر تم تک پہنچے گا‘۔


























Leave a Reply