سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ حکمران سندھ کے وسائل پر ڈاکا مارنے والے چوہوں کو پکڑنے کے بجائے بچا رہے ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ میں 18سال سے حکمرانی ایک ہی جماعت کے پاس ہے، گورننس کے مسائل پر جب بات ہوتی ہے تو حکومتی ترجمان پریشان ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے نتائج سب کے سامنے آئے ہیں، لگتا ہے سندھ پبلک سروس کا نام سندھ اسمبلی سے تبدیل کرنا پڑے گا، ایک اسسٹنٹ کمشنر پوسٹنگ کے لیے 3سے 7کروڑ دیتا ہے، پرچے لیک ہونا بھی بدانتظامی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی کہا کہ سولر پراجیکٹ میں بدترین کرپشن ہوئی اور عوام کو لوٹا گیا، وزرا پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ گندم چوری نہیں ہوئی، اربوں کی گندم چوہے کھا جاتے ہیں اور پھر 4 وزرا اس پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے ہر محکمے میں گورننس کے مسائل ہیں، کام نہیں ہو رہا ہے، سندھ میں منشیات کی وجہ سے خاندان کے خاندان تباہ ہورہے ہیں، کراچی کے امن کی صورتحال دیکھیں جس کے باوجود وزیرداخلہ کو تمغہ امتیار مل رہا ہے۔
علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ کشمور کندھ کوٹ کا پل ٹوٹ چکا ہے، حب ڈیم سے پانی کراچی نہیں آیا، بلاول بھٹو کو غلط بریف کیا گیا، منشیات نیٹ ورک کے پیچھے کون ہے بے نقاب ہونا چاہیے، ایس پی ایس سی کے امتحانات کافرانزک آڈٹ کرایا جائے۔


























Leave a Reply