امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران جنگ سے متعلق آئندہ حکمت عملی پر اہم اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں ممکنہ طور پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے آپشن پر بھی غور کیا جائے گا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد ایران کے خلاف فوجی آپشن دوبارہ زیر غور آ گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں تاہم ایران کی جانب سے امریکی مطالبات مسترد کیے جانے اور جوہری پروگرام پر بامعنی رعایت نہ دینے کے باعث فوجی کارروائی کا امکان بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔
دو امریکی عہدیداروں نے ایگزیوس کو بتایا کہ ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اس سے جوہری پروگرام پر رعایتیں لینے کے لیے کسی نہ کسی نوعیت کی فوجی کارروائی کی جانب مائل ہیں۔
زیر غور آپشنز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ دوبارہ شروع کرنا بھی شامل ہے جس کے تحت امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کرتی تھی۔
ایک اور آپشن ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کرنا ہے جس کے تحت امریکی فوج ان اہداف میں سے 25 فیصد اہداف کو نشانہ بنا سکتی ہے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے مگر اب تک ان پر حملہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت ٹرمپ پر زور دے رہی ہے کہ وہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز کے آپریشن کا حکم دیں تاہم اسرائیلی حکام کے مطابق ٹرمپ اس آپریشن کے انتہائی خطرناک ہونے کے باعث ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران سے متعلق فیصلوں میں اس ہفتے ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین کو بھی ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


























Leave a Reply