کیا آپ کو کبھی حیرت ہوئی ہے کہ کسی کو جماہی لیتے دیکھ کر آپ بھی ویسا کرنے پر کیوں مجبور ہو جاتے ہیں؟
جی ہاں واقعی جماہی کسی چھوت کی طرح ہے جس کو دیکھنا تو ایک طرف اس لفظ یعنی جماہی کو پڑھ کر بھی آپ منہ پھاڑ کر سانس کھینچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
مگر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ بات اب تک سائنسدان معلوم نہیں کرسکے یا یوں کہہ لیں کہ یہ ایک معمہ ہے۔
اسے اکثر سماجی یا جذباتی کنکشن کے ساتھ ساتھ دماغی نقل سے منسلک کیا جاتا ہے جس سے ہمارے جذبات اور اقدامات اردگرد موجود افراد جیسے ہو جاتے ہیں۔
اب ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جماہی کے چھوت جیسے رویے کا آغاز پیدائش سے قبل ہو جاتا ہے۔
جرنل کرنٹ بائیولوجی میں شائع تحقیق میں حاملہ خواتین کی جماہی کے تاثرات کو ریکارڈ کرکے الٹرا ساؤنڈ مشین سے ان کے پیٹ میں موجود بچوں کے چہروں کی رئیل ٹائم تصاویر لی گئیں۔
بعد ازاں ان دونوں ریکارڈنگز کا موازنہ کیا گیا اور دریافت ہوا کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچے ماں کے فوری بعد جماہی لیتے ہیں۔
درحقیقت ایسا 90 سیکنڈ کے اندر ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق حمل ٹھہرنے کے 11 ہفتوں بعد بچے ماں کے پیٹ میں جماہی لینا شروع کرتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بچے اسی وقت جماہی لیتے ہیں جب ماں کی جانب سے ایسا کیا جاتا ہے، ورنہ ماں کے منہ کھولنے اور بند کرنے یا چہرہ ساکت رکھنے پر وہ ایسا نہیں کرتے۔
محققین کے خیال میں بچوں کی جماہی لینے کا عمل ممکنہ طور پر ماں اور بچے کے ابتدائی تعلق کا حصہ ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ کچھ عرصے پہلے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ 55 فیصد افراد تو محض جماہی لفظ کو پڑھ کر ہی جماہی لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ٹیمپل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب لوگوں کو جماہی (انگلش میں Yawning) بولنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ جماہی لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
جماہی صرف انسانوں تک محدود نہیں، دیگر جانور جیسے بندر، مگر مچھ، سانپ اور کچھ مچھلیوں کو بھی جماہی لیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
چند دلچسپ حقائق
دانت پیس کر آپ جماہی کو دبا نہیں سکتے۔
اس کی آزمائش بھی آپ کر سکتے ہیں، یعنی جب جماہی آنے لگے تو دانتوں کو دبا کر اسے روکنے کی کوشش کریں۔
اس کوشش میں ناکامی کا سامنا ہوگا، کیونکہ جماہی کا کوئی نامعلوم میکنزم ہمیں جبڑے کھولنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
جماہی لینے سے لوگوں کے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


























Leave a Reply