امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی تجویز کو احمقانہ قرار دیدیا۔
امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اومابا اور بائیڈن ہوتے تو شاید ایرانی تجویز قبول کرلیتے، ایران کے ساتھ سابق صدر باراک اوباما کی ڈیل بڑی اسٹریٹجک غلطی تھی۔
ٹرمپ بولے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ممکن ہے، ساتھ یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی لائف سپورٹ پر ہے، امید کرتے ہیں ایران میں اچھی قیادت سامنے آئے گی، ایران کے جواب کا کئی دنوں تک انتظار کیا حالانکہ جواب 10 منٹ میں دیا جاسکتا تھا، انہوں نے ایران کا مسئلہ ختم ہونے پر تیل کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ظاہر کردیا۔
امریکی صدر کاکہنا تھا ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ایران نے 100 طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کیے تھے، ایران کے ساتھ نمٹ کر دنیا کے لیے خدمات پیش کر رہے ہیں، ایران کی ناکہ بندی وینزویلا منصوبےکی طرح شاندار فوجی منصوبہ تھا۔
صدر ٹرمپ نےکہا ہم نےبڑی فوجی کامیابی حاصل کی ہے، ایران کے حوالے سے کوئی دباؤ یا کوفت محسوس نہیں کر رہا ہوں، ایران پر مکمل فتح حاصل کریں گے، ہم پر کوئی دباؤ نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے صدر آبنائےہرمز مسئلےکے حل میں مدد فراہم کرنا چاہتے ہیں، چین آبنائے ہرمز کے بحران کو ختم کرنے میں دلچسپی رکھتاہے، چینی صدر سے ایران، تائیوان اور روس کے حوالے سے بات چیت کروں گا، چینی صدر کےساتھ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر بات کروں گا۔
امریکی صدر نے کہا کردوں نےہمیں مایوس کیا، ہم نے ایران میں داخل کرنےکےلیے کردوں کو ہتھیار دیے مگر انہوں نے اپنے لیے رکھ لیے۔


























Leave a Reply