ذیابیطس ٹائپ 2 ایسی بیماری ہے جس کے دوران لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین نہیں بناتا یا انسولین کو درست طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔
اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے جس سے وقت گزرنے کے ساتھ اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔
اگر بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول نہ کیا جائے تو امراض قلب، بینائی سے محرومی، اعصاب اور اعضا کو نقصان پہنچنے سمیت دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔
تاہم اگر آپ ذیابیطس جیسے دائمی مرض سے خود کو ہمیشہ محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ایسا بہت آسانی سے ممکن ہے۔
درحقیقت سیڑھیاں چڑھنے یا خریداری کے لیے کسی سواری کی بجائے پیدل جانے جیسی عادات سے آپ خود کو ذیابیطس جیسے مرض سے محفوط رکھ سکتے ہیں۔
یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
موناش یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ اس طرز کی پہلی تحقیق ہے جس میں مختصر وقت کی جسمانی سرگرمیوں اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 4 منٹ سے کم وقت کی معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں سے اس دائمی مرض سے متاثر ہونے کا خطرہ ایک تہائی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
درحقیقت تحقیق کے مطابق ایک وقت میں 30 سیکنڈ (دن میں کئی بار) کو آسانی سے روزمرہ کی زندگی کا معمول بنایا جاسکتا ہے۔
اس تحقیق میں سخت جسمانی سرگرمیوں اور معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں سے مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اس مقصد کے لیے 22 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو لگ بھگ 8 برس میں اکٹھا کیا گیا تھا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 10 بار سخت جسمانی سرگرمیوں (ایک وقت میں ایک منٹ تک) سے ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ 36 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
مگر سیڑھیاں چڑھنے یا معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں کو دن بھر میں 3 بار عادت بنانے سے یہ خطرہ 39 سے 41 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر 5 میں سے 4 بالغ افراد روزانہ ورزش نہیں کرتے تو اس طرح کی آسان جسمانی سرگرمیوں کو عادت بناکر وہ ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تیز رفتاری سے سیڑھیاں چڑھنے کی عادت کو آسانی سے اپنایا جاسکتا ہے یا خریداری کے لیے تیز رفتاری سے چہل قدمی کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل ڈائیبیٹس کیئر میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل نومبر 2023 میں برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ چہل قدمی خاص طور پر تیز رفتاری سے چلنے کی عادت ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تیز رفتاری سے چہل قدمی سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ لگ بھگ 40 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 1999 سے 2022 کے دوران ہونے والے تحقیقی کام کا تجزیہ کیا گیا۔
اس تحقیقی کام میں چہل قدمی کی رفتار اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کے خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔
بعد ازاں محققین نے مختلف افراد میں چہل قدمی کی کم، معتدل اور زیادہ رفتار کے اثرات کی جانچ پڑتال کی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ عام رفتار (2 میل فی گھنٹہ سے کم رفتار) سے چہل قدمی کرنے سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح معتدل (2 سے 3 میل فی گھنٹہ) رفتار سے چلنے سے اس دائمی مرض کا خطرہ 24 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں تیز رفتاری (3 سے 4 میل فی گھنٹہ) سے چہل قدمی کرنے کے عادی افراد میں ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ 39 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
تحقیق میں چہل قدمی سے ذیابیطس کے خطرے میں کمی آنے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔


























Leave a Reply