مختلف اقسام کی جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے سے صحت مند زندگی اور لمبی عمر کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل بی ایم جے میڈیسن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ ورزش کی بجائے مختلف اقسام کی جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے صحت کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
جسمانی سرگرمیوں کو ہمیشہ سے اچھی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے مگر یہ واضح نہیں کہ کونسی اقسام کی ورزشوں سے صحت کو کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں یا ان کے امتزاج سے فوائد مزید بڑھتے ہیں یا نہیں۔
یہ جاننے کے لیے تحقیق میں 2 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ان افراد کی جسمانی سرگرمیوں کے ڈیٹا کو 1986 سے جمع کیا جا رہا تھا جس میں معلوم کیا گیا تھا کہ وہ چہل قدمی، جاگنگ، رننگ، سائیکلنگ، سوئمنگ، کشتی رانی، ٹینس، اسکواش، ویٹ ٹریننگ، یوگا اور دیگر ورزشوں کو کس حد تک معمول بناتے ہیں۔
ان سے یہ بھی معلوم کیا گیا کہ وہ روزانہ کتنی سیڑھیاں چڑھتے ہیں۔
تحقیق میں ایک لاکھ 11 ہزار 467 افراد کی مجموعی سرگرمیوں اور ایک لاکھ 11 ہزار 373 افراد کی مختلف اقسام کی جسمانی سرگرمیوں کی سطح کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
دونوں گروپس میں شامل افراد کی جانب سے 11 یا 13 اقسام کی جسمانی سرگرمیوں کو رپورٹ کیا گیا جن میں چہل قدمی سب سے عام جسمانی سرگرمی تھی۔
3 دہائیوں تک جاری رہنے والی تحقیق کے دوران 38 ہزار 847 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 9901 افراد امراض قلب، 10 ہزار 719 افراد کینسر جبکہ 3159 افراد نظام تنفس کے امراض کے باعث ہلاک ہوئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ جسمانی سرگرمیوں کے عادی افراد میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر ہر ہفتے 6 سے 7 گھنٹے معتدل یا 2 سے 3 گھنٹے سخت جسمانی سرگرمیاں اچھی صحت کے لیے مثالی ہوتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ چہل قدمی سب سے بہترین ورزش ہے جس سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 17 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اسی طرح سیڑھیاں چڑھنے کی عادت سے بھی جلد موت کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دیگر جسمانی سرگرمیاں جیسے ٹینس یا اسکواش کھیلنے سے موت کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، کشتی رانی سے یہ خطرہ 14 فیصد، ویٹ ٹریننگ سے 13 فیصد، جاگنگ سے 11 فیصد جبکہ سائیکلنگ سے 4 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
مگر تحقیق میں مزید دریافت کیا گیا کہ کسی ایک سرگرمی کی بجائے مختلف اقسام کی جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 19 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اس طرح امراض قلب، کینسر، نظام تنفس اور دیگر وجوہات سے موت کا خطرہ 13 سے 41 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کسی حد تک محدود ہیں کیونکہ اس میں وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا جبکہ لوگوں کی رپورٹ کردہ جسمانی سرگرمیوں کے ڈیٹا پر انحصار کیا گیا۔
مگر ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ مختلف اقسام کی جسمانی سرگرمیوں سے لمبی عمر کے حصول میں مدد ملتی ہے۔


























Leave a Reply