کراچی کا سبز احاطہ 2 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے، حالیہ عرصے میں سندھ حکومت اور شہری اداروں نے کونوکارپس کے درخت مرحلہ وار ختم کرکے درختوں کی مقامی اقسام لگانےکی پالیسی اپنائی ہے، مگر اس مہم کے دوران ایسے درخت بھی کاٹےگئے جو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کی ریڈ لسٹ میں معدومی کے خطرے سے دوچار قرار دیے گئے ہیں۔
کبھی کراچی وہ شہر تھاجہاں سبز درختوں کی چھاؤں ہوتی تھی اور ان درختوں کو چھوکر گرم ہوائیں ٹھنڈی ہوجایا کرتی تھیں لیکن جس خاموشی سے یہ شہر اپنی سبز پہچان کھو رہا ہے وہ ایک ایسا ماحولیاتی المیہ ہے جس کے خطرناک اثرات ہم اس شہر میں بدلتے بگڑتے موسموں کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
کونوکارپس کی کٹائی کے ساتھ ہی اس کی آڑ میں شہر کے سرسبز قبرستان سخی حسن سے بھی خاموشی کے ساتھ چڑیوں سے آشیانے چھین لیےگئے۔ حکام تو کانوکارپس کی کٹائی کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن ان کی آڑ میں لگنم وٹائےکے درخت بھی کاٹ دیے گئے ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کے مطابق کورنو کارپس 20 سال قبل کراچی میں لگایا گیا، 2021 کی رپورٹ کے مطابق ان سے ماحول میں کوئی بہتری نہیں آئی، ان درختوں سے شہر کے انفرااسٹرکچرکو بہت نقصان ہوتا ہے، فیصلہ کیا گیا ہےکہ اگر 10 درخت نکالیں جائیں گے تو 10 درخت ہی اس کی جگہ لگائے جائیں گے۔
ترجمان ہارٹی کلچرل سوسائٹی آف پاکستان رفیع الحق کے مطابق لگنم کے درختوں کی کٹائی دیکھ کر تکلیف ہوئی، یہ درخت معدومی کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے، ایسے درخت جو ماحول کی بہتری کے لیے ضروری ہیں ان کی حفاظت اور نگرانی ضروری ہے۔
کنکریٹ کے اس جنگل میں اب اس شہر کی سانس گھٹ رہی ہے، فٹ پاتھ سے لے کر بس اسٹاپ تک ہر چیز سخت اور بے جان کنکریٹ میں ڈھل چکی ہے۔ جہاں کبھی درخت زمین میں جڑیں پھیلا کر فضا کو ٹھنڈک دیتے تھے، وہاں اب انہیں گملوں میں قید کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق جو درخت کونوکارپس کے متبادل کے طور پر لگائے جارہے ہیں، پالسی کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جائےکہ کل یہ درخت ترقیاتی منصوبوں کی نذر نہ ہوں۔


























Leave a Reply