Preloader

کراچی (19 اگست 2026): مبینہ طور پر قتل کیے گئے نوجوان تاجر میر رضا کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ کیس کی نئی تفتیشی ٹیم نئے شواہد تلاش کرنے کے بجائے خودکشی کے مؤقف کو برقرار رکھنے پر توجہ دے رہی ہے۔

میر رضا کے والدین نے وکیل کے ذریعے کیس کی براہ راست تفتیش کی نگرانی کی درخواست کی۔ انہوں نے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ سندھ اور پولیس حکام سے براہ راست نگرانی کا مطالبہ کر دیا۔

انہوں نے درخواست میں کہا کہ نئی تفتیشی ٹیم نئے شواہد تلاش کرنے کے بجائے خودکشی کے مؤقف کو برقرار رکھنے پر توجہ دے رہی ہے، اصل تفتیشی ٹیم کی جانب سے میر رضا کی خودکشی کا مبینہ جھوٹا بیانیہ پیش کیا گیا، کیس میں متعدد سینئر پولیس افسران کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اعتراض ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا کی لاش ملنے سے قبل 29 جولائی کی رات کیا کیا ہوا؟ نئی فوٹیج میں اہم انکشافات

درخواست میں کہا گیا کہ وزیر داخلہ ضیا لنجار آئی جی سندھ اور موجودہ تفتیشی ٹیم کے خلاف ضروری کارروائی میں ناکام رہے، ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار سمیت متعدد پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، ایس ایس پی اسپیشلائزڈ انویسٹی گیشن یونٹ سمیع اللہ سومرو کے خلاف کارروائی کی جائے۔

میر رضا کے والدین نے ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ، ایس پی ایسٹ عثمان سدوزئی، ایس ایس پی کرائم سین یونٹ آصف جاکھرانی، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضل، ایس آئی او شبیر لغاری، ایس ایچ او گلستان جوہر کامران اور ڈی ایس پی شارع فیصل ارشد آفریدی کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

والدین نے قتل کیس کی تفتیش میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے شواہد سے مبینہ نامناسب برتاؤ اور تفتیشی خامیوں پر اعلیٰ حکام سے مداخلت کی اپیل کر دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *