اسلام آباد: امریکی سفیر کے دورہ مقبوضہ کشمیر میں متنازع علاقے کی حیثیت سے متعلق بیان پر پاکستان نے احتجاج کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر کو ’بھارت کا حصہ‘ قرار دینے کی امریکی سفیر کی بات کو سختی سے مسترد کرتا ہے، امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے سفیر کے بیان پر سخت ڈیمارش کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیمارش امریکی سفیر برائے بھارت سرجیوگور کے دورے کے دوران غلط بیان پر دیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، تنازع کا حتمی فیصلہ یو این قراردادوں، کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا ہے، تنازع پر سفیر کا غیر ذمہ داراانہ بیان امریکا کے دیرینہ، دستاویزی موقف کی نفی ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ امریکی سفیر کا بیان عالمی قانون کی بالادستی، یو این چارٹر سے متعلق امریکی عزم کے بھی منافی ہے، امریکی سفیر جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق ریمارکس ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فریق سے کہا گیا کہ عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت سے ہم آہنگ رکھے جائیں، امریکا جموں و کشمیر کے متنازع، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اسٹیٹس کو مدنظر رکھے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے بعد صدر ٹرمپ کی پاک بھارت تنازع جموں و کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کو سراہا تھا۔
