امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے ایٹمی مواد پر قبضہ کرنے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کا جائزہ لے رہا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا نے جمعےکو دعویٰ کیا تھا کی امریکی صدر مخصوص اہداف کے لیے فوجی ایران بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کردہ جنگی مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایران کے پاس موجود تقریباً 450 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسے چند ہفتوں میں ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کیا جاسکتا ہے۔
اس مواد کو قبضے میں لینے کے لیے ممکنہ کارروائی میں امریکی یا اسرائیلی فوجیوں کو ایرانی سرزمین پر جانا پڑے گا اور جنگ کے دوران مضبوط زیر زمین تنصیبات تک پہنچنا ہوگا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مشن امریکا، اسرائیل یا دونوں کی مشترکہ کارروائی ہوگا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی جاسکتی ہے جب امریکا اور اسرائیل کو یقین ہو جائےگا کہ ایرانی فوج انہیں نقصان نہیں پہنچاسکتی۔
منگل کو کانگریس کو دی گئی بریفنگ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے جب ایران کے افزودہ یورینیئم کو محفوظ بنانےکے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے لیے وہاں جا کر اسے حاصل کرنا پڑے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کام کون کرے گا۔
ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایران میں مخصوص مشنز کے لیے اسپیشل آپریشنز یونٹس بھیجنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ انتظامیہ دو امکانات پر غور کر رہی ہے، ایک یورینیئم کو مکمل طور پر ایران سے باہر منتقل کر دیا جائے یا جوہری ماہرین کو وہاں بھیج کر اسی مقام پر اسے کم افزودہ کر دیا جائے۔ اس مشن میں اسپیشل فورسز کے ساتھ سائنس دان بھی شامل ہو سکتے ہیں جن میں ممکنہ طور پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین بھی ہوسکتے ہیں۔
اس معاملے سے واقف دو ذرائع کے مطابق جنگ سے پہلے صدر ٹرمپ کو جو مختلف آپشنز پیش کیے گئے تھے، ان میں ایسے آپریشنز بھی شامل تھے۔
ایک امریکی عہدیدار نے اس مشن کی مشکل بیان کرتے ہوئےکہا کہ پہلا سوال یہ ہےکہ یورینیئم کہاں ہے؟ دوسرا سوال یہ ہےکہ ہم وہاں کیسے پہنچیں گے اور اس پر عملی کنٹرول کیسے حاصل کریں گے؟
امریکی حکام کے مطابق یورینیئم کے علاوہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کے امکان پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔


























Leave a Reply