امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں شادی کے بعد ہنی مون پر جانے والا چینی جوڑا ایک دوسرے سے الگ ہوگیا۔
چین کے صوبے Zhejiang سے تعلق رکھنے والا جوڑا 19 فروری کو مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہوا تاکہ وہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکے۔
قطر اس جوڑے کے دورے کا آخری اسٹاپ تھا۔
قطر کے دارالحکومت دوحا سے یہ جوڑا آسٹریلیا کے شہر سڈنی جانے والا تھا، کیونکہ شوہر یو وہاں ملازمت کرتا ہے۔
مگر دونوں کو ایک ہی تاریخ کی ٹکٹیں نہیں مل سکیں۔
یو کی اہلہ زینگ کو 28 فروری کی صبح 9 بجے کی ٹکٹ ملی جبکہ یو کی پرواز یکم مارچ کو صبح 9 بجے روانہ ہونا تھی۔
مگر امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دبئی اور دوحا کے ائیرپورٹس بند کر دیے گئے۔
اب تک مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی حالات کے باعث 11 ہزار پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں اور 10 لاکھ سے زائد مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
زینگ خوش قسمت تھی جو اس حملے سے قبل دوحا سے آسٹریلیا کے لیے روانہ ہوگئی مگر اس کا شوہر وہاں پھنس گیا۔
یو نے بتایا کہ اگر وہ قریبی تاریخ کی ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتا تو اسے 5 ہزار ڈالرز خرچ کرنا پڑتے جو اس کے لیے بہت زیادہ تھے۔
تو اس نے 13 مارچ کو مفت ملنے والی پرواز سے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اب وہ جس ہوٹل میں مقیم ہے وہاں کا ہر رات کا کرایہ 90 ڈالر ہے اور وہ متعدد میزائلوں کو فضا میں پھٹتے ہوئے دیکھ چکا ہے۔
یو نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے جب اس نے کسی جنگ کو اتنی نزدیک سے دیکھا ہے اور کمپنی کو حالات سے آگاہ کرچکا ہے تاکہ ملازمت متاثر نہ ہو۔


























Leave a Reply