کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم قرار دیدیا۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کراچی شہر میں عیدالاضحیٰ پر صفائی ستھرائی کا خراب ماحول رہا، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ہوگا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا پیٹرول میں 122 روپے کم کرنے چاہیے تھے، حکمرانوں کو اپنی عیاشیاں ختم کرنا ہوگی، پیٹرول کی قیمت تین سال کے لیے لاک کریں، 3سال کے لیے پیٹرول 250 روپے فی لیٹر لاک کیا جائے، معیشت کا پہیہ چلانا ہوگا ورنہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔
انہوں نے پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، حکومت بتائے کہ پاک ایران گیس لائن منصوبے پر کیا پیشرفت ہے؟ ایران کے ساتھ آزاد تجارت کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا تنخواہ دار طبقہ ہمیشہ ٹیکس ادا کرتاہے، 605 ارب روپے ٹیکس تنخواہ دار طبقے نے ادا کیا، ایف بی آر کے 25 ہزار ملازمین کا ٹیکس کلکشن میں کردار زیرو ہے۔
ان کا کہنا تھا بینظیرانکم سپورٹ پروگرام میں نام بینظیر کا اور کام بے ضمیروں کا ہے، پاکستان کے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم ہے، وفاقی حکومت کراچی کے لیے سنجیدہ نہیں جبکہ ایم کیوایم ہر دور میں حکومت کا حصہ رہتی ہے۔
غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، امریکا اسرائیل کی پشت پناہی کررہا ہے، امریکا میں غزہ کی بات کرنے والے طالبعلموں کو یونیورسٹیوں سے نکال دیا جاتا ہے۔


























Leave a Reply