بنگلادیش نے بھارت سے احتجاج کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہےکہ انسانیت کے خلاف جرائم میں بین الاقوامی جرائم ٹربیونل سے سزا یافتہ مفرور شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کی اجازت دی گئی۔
خیال رہےکہ بنگلا دیش میں سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونےکے بعد 12 فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔
23 جنوری کو حسینہ واجد نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے بنگلادیش میں اپنے حامیوں سے آن لائن خطاب کیا۔
ایک بیان میں بنگلادیشی وزات خارجہ کا کہنا تھا کہ حسینہ نے کھلے عام بنگلا دیش کی حکومت کو ہٹانےکا مطالبہ کیا اور اپنے پارٹی وفاداروں اور عام عوام کو کھلم کھلا اشتعال دلایا کہ وہ بنگلا دیش میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیاں کریں۔
بنگلادیشی وزات خارجہ کا کہنا تھا کہ عوامی لیگ کی قیادت کی جانب سے بے لگام اشتعال انگیزی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عبوری حکومت کو اس کی سرگرمیوں پر پابندی کیوں لگانی پڑی۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ الیکشن کی تیاریوں اور پولنگ والے دن تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار یہ ‘جتھہ’ ہوگا، اس کی مذموم سازشوں کو ناکام بنانےکے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
بنگلادیشی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس بات پر انہیں حیرانی اور سخت مایوسی ہوئی ہےکہ بھارت نے مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں عوامی خطاب کرنے کی اجازت دی، یہ عمل واضح طور پر بنگلا دیش میں جمہوری منتقلی، امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ بھارتی دارالحکومت میں اس تقریب کے انعقاد کی اجازت دینا اور قاتل حسینہ کو کھلے عام نفرت انگیز تقریر کرنے دینا بنگلا دیش کے عوام اور حکومت کی صریح توہین ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بنگلا دیش اس بات پر سخت مایوس ہےکہ بارہا درخواستوں کے باوجود بھارت دوطرفہ حوالگی کے معاہدے کے تحت حسینہ کو بنگلا دیش کے حوالے کرنےکی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے میں تساہل سے کام لے رہا ہے اور دوسری طرف انہیں اپنی سرزمین سے ایسے اشتعال انگیز بیانات دینے کی اجازت بھی دی گئی۔
بنگلادیشی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بنگلا دیش اور بھارت کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک خطرناک مثال ہے اور اس سے بنگلا دیش کی مستقبل کی منتخب قیادت کی جانب سے باہمی طور پر سودمند دوطرفہ تعلقات کو استوار کرنے اور آگے بڑھانے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔


























Leave a Reply