گھر کو کیڑوں جیسے مچھروں، مکھیوں، لال بیگ یا دیگر سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں؟ تو چند عام پودوں اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
جی ہاں واقعی اگر گھر میں چیونٹیوں کی قطار یا مکھیوں کی بھرمار سے تنگ آکر کیمیکلز استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں تو یہ کام پودوں سے بھی ممکن جس سے گھر کا فضائی معیار بھی بہتر ہوگا۔
چند پودے ایسے ہوتے ہیں جن کی قدرتی مہک کیڑوں کو گھر سے دور رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
بس آپ کو انہیں درست جگہ پر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
جڑی بوٹیاں
روزمیری، تلسی، پودینا وغیرہ کے پودوں سے خارج ہونے والی مہک کیڑوں جیسے مکھیوں اور مچھروں کو قریب آنے سے روکتی ہے۔
ان کو کسی کھڑکی کے قریب رکھ کر وہاں سے کیڑوں کی آمد کو روکا جاسکتا ہے۔
تلسی کا استعمال مکھیوں اور مچھروں کو دور رکھتا ہے، پودینے سے چیونٹیوں مکھیوں اور مچھروں بلکہ چوہوں تک کو گھر سے دور رکھ جاسکتا ہے۔
روز میری مچھروں اور مکھیوں کو دور رہنے کے لیے بہترین ہے جبکہ لیمن گراس بھی مچھروں کو دور رکھتا ہے۔
گیندا
خوبصورت پھولوں والا یہ پودا صرف دیکھنے میں میں ہی اچھا نہیں ہوتا بلکہ اس سے خارج ہونے والی مہک متعدد کیڑوں کو گھر سے دور رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
لیونڈر
لیونڈر کی مہک سے سکون محسوس ہوتا ہے اور اچھی نیند کا حصول بھی ممکن ہوتا ہے۔
مگر کیڑوں جیسے بھنوروں اور دیگر کو اس کی مہک پسند نہیں ہوتی اور وہ گھر سے دور رہتے ہیں۔
سنبل بری
اس پودے کی مہک لال بیگ اور مچھروں کو پسند نہیں ہوتی اور وہ اس جگہ سے دور رہتے ہیں جہاں یہ پودا موجود ہوتا ہے۔
اس پودے میں موجود ایک مرکب کیڑوں کے اندر ایسے کیمیکل ریسیپٹر کو متحرک کرتا ہے جو ان کے اندر خارش اور تکلیف کا باعث بنتا ہے۔
گل داؤدی
یہ پودا کسی کیڑے کا بدترین دشمن ہوتا ہے۔
درحقیقت اس پودے کو رکھ کر آپ لال بیگ، چیونٹیوں، کھٹمل، دیمک اور متعدد کیڑوں کو گھر سے دور رکھ سکتے ہیں۔


























Leave a Reply