اسلام آباد (23 اگست 2026): وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے سے بظاہر لگتا ہے مسائل حل ہو سکتے ہیں، اس شہر کو وفاقی علاقہ بنانے میں کوئی حرج نہیں۔
’ویژن فار پاکستان‘ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ صوبوں کے معاملے پر بحث ہو رہی ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس بحث کا حصہ بننا چاہیے، یہ فیصلہ اتفاق رائے سے ہوگا، ایسا نہیں کہ فیصلہ مسلط کیا جا رہا ہے، صوبوں کی بحث میں سب سے پہلے عوام کے مفاد کو دیکھنا چاہیے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کالا باغ ڈیم نہیں بنا کیونکہ اس کو سیاست کی نظر کر دیا گیا، کالا باغ ڈیم پر کہہ دیا گیا کہ اس پر تو بات بھی نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی اور گوادر کو وفاقی علاقہ قرار دینے کی تجویز انتہائی تباہ کن ہے: اسد عمر
انہوں نے مثال دی کہ بھارت نے 1950 میں صوبوں کے حوالے سے کمیشن بنایا، بھارت میں جو پنجاب ہے وہاں تین صوبے بن چکے ہیں، صوبے پاکستان کے حق میں ہیں تو پھر اس کو ضرور بننے چاہیے، سیاسی بحث کے ذریعے ہی یقیناً ہم کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام نئے صوبے اور ایڈمنسٹریٹو یونٹ کا نعم البدل نہیں ہے، بلدیاتی نظام کتنا ہی طاقتور بنائیں پھر بھی نئے صوبے اور یونٹ کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا، نئے صوبے یا ایڈمنسٹریٹو یونٹ بلدیاتی نظام سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں، آبادی کے حساب سے نئے صوبے یا ایڈمنسٹریٹو یونٹ کو وسائل ملیں گے، یہ بات فضول ہے کہ بلدیاتی نظام مضبوط کریں تو نئے صوبوں اور یونٹ کی ضرورت نہیں۔
’ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانا نئے صوبے بنانے سے زیادہ بہتر ہیں۔ یہ بنتے ہیں تو انتشار ہونے کے امکانات کم ہیں۔‘
