متحدہ عرب امارات نے ایران کے لیے اربوں ڈالر جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ یہ پیشرفت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق جاری مذاکرات کے آخری مراحل کے دوران سامنے آئی ہے۔
دو علاقائی ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات نے تقریباً 10 ارب ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے جن میں سے 3 ارب ڈالر سے زائد رقم پہلے ہی ایران کو فراہم کی جا چکی ہے تاہم دیگر دو ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی رقم 20 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے اور یہ اقدام ایران کے حملے روکنے کے بدلے طے پایا۔
رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ رقوم متحدہ عرب امارات کی اپنی ہیں یا اماراتی بینکاری نظام میں موجود ایرانی فنڈز یا دیگر بیرونی کھاتوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
ایک اماراتی عہدیدار نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس انتظام کے تحت ایران متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے روک دے گا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی، انٹیلی جنس تعاون اور اقتصادی روابط میں بہتری بھی شامل ہو سکتی ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امارات کے تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے کیونکہ جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے باعث امارات میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں اور غیر ملکی افراد کی نقل مکانی بھی دیکھی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ اس معاہدے سے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حل میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ اس طرح ایران جنگی نقصانات کے ازالے کا دعویٰ کر سکتا ہے جبکہ امریکا یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ اس نے کوئی ادائیگی نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق ایران نے کم از کم 2 دیگر خلیجی ممالک سے بھی اسی نوعیت کے انتظامات کے لیے رابطہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر آخری براہ راست حملہ 4 مئی کو خلیج عمان میں واقع فجیرہ بندرگاہ پر کیا گیا تھا۔


























Leave a Reply