کراچی: مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق مزید حقائق سامنے آگئے ۔
مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق ثبوتوں کے ساتھ تفصیلات جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خان زادہ کے ساتھ میں سامنے لائی گئیں ۔
پروگرام آج شاہ زیب خان زادہ کے ساتھ میں بتایا گیا کہ انمول پنکی دھڑلے سے منشیات فروشی کررہی تھی ۔ ملزمہ کیش نہیں بلکہ بینک اکاؤنٹ میں اپنے کلائنٹس سے پیسے لیتی تھی اور دودھ کے ڈبے اور ڈبل روٹی کے ساتھ کوکین سپلائی کرتی تھی ۔
پروگرام میں مزید بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پورا نیٹ ورک چلایا جارہا تھا ۔ پنکی اپنے کسٹمرز کو میسج کرکے منشیات کی سپلائی کے بارے میں بتاتی تھی اور کہتی تھی کہ کراچی میں یا اسلام آباد میں ، جہاں بھی آپ کو یہ مال چاہیے ، پہنچا دیا جائے گا ۔ پیسے ٹرانسفر کیجیے اور مال لیجیے ۔
واضح رہے کہ منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ ایک افسر نے میرے بھائی کو متعدد بار پکڑا اور رشوت لے کر چھوڑ دیا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے کراچی میں ماہانہ 2 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
تفتیش میں پنکی کے زیرِ استعمال 2 موبائل سمز افضل اور صابرہ بی بی کے ناموں پر رجسٹرڈ نکلیں۔
پنکی نے بتایا کہ متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی، پولیس اہلکار نے میرے رائیڈرز کو حراست میں لے کر 1 کروڑ کی مجموعی رشوت لی۔
پنکی کا کہنا ہے کہ لاہور سے منشیات بھیجنے کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا ہے، میرا شناختی کارڈ بلاک ہوا تو سمیر کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھلوایا۔


























Leave a Reply