عمر میں اضافہ تو ایسا عمل ہے جس کو روکنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور ہر گزرتے برس کے ساتھ بڑھاپے کے آثار قدرتی طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔
مگر موجودہ عہد کے بیشتر افراد کی ایک بہت عام جوانی میں یا قبل از وقت بڑھاپے کا شکار بنانے کا باعث بنتی ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت کم یا بہت زیادہ وقت تک سونے سے دماغ، دل، پھیپھڑوں اور مدافعتی نظام کی عمر میں کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے۔
آسانی الفاظ میں حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔
جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔
اس تحقیق میں انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑیوں کا تجزیہ کیا گیا تھا۔
اس سے قبل ماضی کی تحقیق رپورٹس میں یہ دریافت ہوچکا ہے کہ نیند، بڑھاپے کے سفر اور دماغی اثرات کے درمیان تعلق موجود ہے۔
اس نئی تحقیق میں ثابت کیا گیا کہ بہت کم یا بہت زیادہ وقت تک نیند سے جسم کے ہر حصے کی عمر کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔
اس تحقیق میں جسم کے ہر حصے کی حیاتیاتی گھڑیوں کے افعال کا الگ الگ جائزہ لیا گیا تھا۔
نیند کو صحت کے لیے بہت اہم قرار دیا جاتا ہے اور اس کی کمی کو متعدد دائمی امراض کا خطرہ بڑھانے والا عنصر قرار دیا جاتا ہے۔
اس تحقیق کے لیے 5 لاکھ افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جو کہ یوکے (UK) بائیو بینک سے حاصل کیا گیا اور پھر مشین لرننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کے مختلف اعضا کی حیاتیاتی عمر کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق کے دوران ان افراد کے مختلف اعضا کے مخصوص پروٹینز اور خون میں موجود مرکبات کے ذریعے ان حیاتیاتی گھڑیوں کو تیار کیا گیا۔
محققین نے بتایا کہ مثال کے طور پر ہم نے جگر کے لیے جس حیاتیاتی گھڑی کو تیار کیا، اس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملی کہ نیند کس طرح حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتی ہے۔
مجموعی طور پر انہوں نے 17 جسمانی اعضا کی حیاتیاتی عمر کا تعین کرنے والی گھڑیوں کو تیار کیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 6 گھنٹے سے کم یا 8 گھنٹے سے زائد نیند سے حیاتیاتی عمر کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔
اس کے مقابلے میں 6.4 سے 7.8 گھنٹوں کی نیند میں حیاتیاتی عمر کی رفتار سست ہوتی ہے یا معمول پر رہتی ہے۔
محققین نے واضح کیا کہ صرف نیند کا دورانیہ ہی اعضا کی عمر کی رفتار تیز نہیں کرتا مگر ناکافی یا بہت زیادہ نیند سے اس عمل کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔
نیند کی کمی سے موتاپے، ذیابیطس ٹائپ 2، ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب اور دیگر مسائل کا خطرہ بڑحتا ہے۔
اسی طرح ناکافی یا بہت زیادہ نیند سے پھیپھڑوں کے دائمی امراض، دمہ اور نظام ہاضمہ کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply