بلوچستان کے وزیرخزانہ میر شعیب نوشیروانی نے صوبائی بجٹ پیش کردیا۔
صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں7 فیصد اضافےکا اعلان کیا گیا، وزیر خزانہ بلوچستان شعیب نوشیروانی نے بتایاکہ نئے سال کے بجٹ کا حجم 1089 ارب روپے ہے، ٹیکس فری بجٹ ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایاگیا۔
بجٹ میں جنرل پبلک سروس کے لیے 270 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صحت کے لیے 74 ارب اور تعلیم کے لیے 157 ارب روپے رکھے گئے، امن وامان کے لیے 108ارب جبکہ بینک آف بلوچستان کے قیام کےلیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی گرانٹس کے تحت 30 ارب 61 کروڑ روپے موصول ہونےکی توقع ہے، غیرترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 798 ارب روپے ہے، سیف سٹی منصوبوں کے فیزٹو کےلیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے۔
صوبائی وزیرخزانہ کے مطابق نئی آسامیوں میں اسکول ایجوکیشن میں 3 ہزار اور محکمہ صحت میں 500 آسامیاں شامل ہیں، اس میں نئے اضلاع کیلئے ایک ہزار اور مختلف محکموں میں 500 آسامیاں بھی شامل ہیں۔
وزیرخزانہ نے بتایا کہ نوجوانوں کےلیے 5000 نئی آسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں، نئے بجٹ میں کسان کارڈ پروگرام کیلئے ایک ارب روپے مختص کئے ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس اور نئی الیکٹرک گاڑیوں پر 100فیصد ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ مشکل حالات میں سرکاری مراعات میں کمی کو یقینی بنایا ہے، بجٹ میں ہماری ترجیحات تعلیم، صحت اور امن وامان ہیں، صوبے کی ترقی کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں، حکومتی اقدامات صرف کاغذ پر نہیں بلکہ عملی طور پر نظر آرہے ہیں۔

























Leave a Reply