کراچی: سینیئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے سندھ حکومت کا بجٹ عوام دوست ، متوازن اور ترقیاتی ترجیحات کا آئینہ دار ہے ،کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے کرنا محنت کش طبقے کے لیے اہم قدم ہے۔
بدھ کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیا۔
سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا، سرکاری ملازمین کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء ضم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا، سندھ میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کردی گئی۔
سندھ حکومت نے نئے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں کوئی نئی اسکیم شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا، غیر ترقیاتی بجٹ کے لیے 2 ہزار 560 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی۔
بجٹ کے بعد سندھ حکومت کے سینیئر وزیر شرجیل میمن نے بیان جاری کرتے ہوئےکہا کہ سندھ حکومت کا بجٹ عوام دوست، متوازن اور ترقیاتی ترجیحات کا آئینہ ہے، پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے ہمیشہ عوامی فلاح، روزگار، تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچرکو ترجیح دی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کم ازکم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار کرنا محنت کش طبقے کیلئے اہم اقدام ہے، سندھ حکومت کا ترقیاتی وژن صرف اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں 900 ارب روپے سے زائد کی ریکارڈ ترقیاتی سرمایہ کاری کی گئی، سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام پاکستان کی تاریخ میں ایک منفرد عوامی فلاحی منصوبہ ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے، بینظیر ہاری کارڈ، زرعی مشینری، جدید ٹیکنالوجی، انشورنس اور مالی سہولیات سے زرعی شعبے کو مضبوط کیا جائے گا۔

























Leave a Reply