آپ نے ایک نعرہ ضرور سنا ہوگا کہ ‘بچے 2 ہی اچھے’، جو کہ خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ نعرہ لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ زیادہ بچے پیدا کرنے کے بجائے محدود اور خوشحال خاندان کی طرف توجہ دیں۔
لیکن دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت کی ایک ریاست میں خواتین کو تیسرا اور چوتھا بچہ پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے انہیں خصوصی انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے ریاست میں گرتی ہوئی شرحِ پیدائش پر قابو پانے کے لیے خاندان کو تیسرے اور چوتھے بچےکی پیدائش پر ہزاروں روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق وزیرِاعلیٰ نائیڈو نے کہا کہ اگرچہ وہ ماضی میں آبادی پر قابو پانے کے حامی رہے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرہ مل کر شرحِ پیدائش میں اضافے کے لیے کام کرے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آندھرا پردیش کے وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ آبادی میں اضافے کو فروغ دینے کیلئے تیسرے بچے کی پیدائش پر 30 ہزار روپے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر 40 ہزار روپے کی رقم ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک ماہ کے اندر اس پالیسی کی مزید تفصیلات جاری کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نائیڈو کا یہ تازہ اعلان اس سے پہلے دی گئی اس تجویز کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دوسرے بچے کی پیدائش پر 25 ہزار روپے دینے کی بات کی گئی تھی۔
5 مارچ کو وزیرِاعلیٰ نے ریاستی اسمبلی کو بتایا تھا کہ حکومت دوسرے بچے کے لیے 25 ہزار روپے دینے پر غور کر رہی ہے۔
تاہم بعد ازاں وزیرِ صحت ستیہ کمار یادو نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا تھا کہ حکومت نے یہ رقم تیسرے اور اس سے زائد بچوں والے خاندانوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نائیڈو کے مطابق، آمدن میں اضافے کے ساتھ کچھ جوڑے صرف ایک بچے پر اکتفا کر رہے ہیں، جبکہ بعض افراد دوسرے بچے کا فیصلہ صرف اسی صورت میں کرتے ہیں جب پہلا بچہ بیٹا نہ ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان رجحانات کے باعث ریاست میں آبادی کی شرحِ پیدائش کم ہو رہی ہے۔

























Leave a Reply