ڈیلس: امریکا میں 2500 ڈالر سے زائد چائلڈ سپورٹ نادہندگان کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
امریکی حکومت نے ایک ایسے قانون پر دوبارہ سختی سے عملدرآمد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جو برسوں سے موجود تو تھا مگر اس کا استعمال محدود پیمانے پر کیا جاتا رہا۔
اب امریکا میں وہ والدین جن پر بچوں کے اخراجات یعنی چائلڈ سپورٹ کی مد میں ڈھائی ہزار ڈالر سے زائد رقم واجب الادا ہے، ان کے امریکی پاسپورٹ ناصرف روکے جا سکیں گے بلکہ منسوخ بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اس فیصلے نے لاکھوں امریکی شہریوں، قانونی ماہرین اور تارکین وطن کمیونٹیز میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ اس کے اثرات براہِ راست بین الاقوامی سفر، روزگار، اور خاندانی زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایسے تمام افراد جو چائلڈ سپورٹ پروگرام کے نادہندہ ہیں، فوری طور پر متعلقہ ریاستی اداروں سے رابطہ کریں اور اپنی ادائیگیاں کلیئر کریں تاکہ ان کے پاسپورٹ منسوخ ہونے سے بچ سکیں۔
محکمہ خارجہ کے مطابق ایک بار پاسپورٹ منسوخ (revoke) ہو جانے کے بعد وہ بین الاقوامی سفر کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا اور نیا پاسپورٹ اسی وقت تک جاری ہوگا جب تک متعلقہ ریاستی child support enforcement agency اس بات کی تصدیق نہ کرے کہ واجبات ادا کر دیے گئے ہیں۔
یہ کارروائی امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات یعنی HHS کے تعاون سے کی جائے گی، جو ان افراد کا ڈیٹا فراہم کرے گا جن پر 2500 ڈالر سے زائد بقایاجات موجود ہیں، اس ضمن میں ابتدائی مرحلے میں ان افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جن پر ایک لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ کی رقم واجب الادا ہے جبکہ بعد میں اسکا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
واضع رہے کہ اس اقدام کی قانونی بنیاد 1996 میں منظور ہونے والا “Personal Responsibility and Work Opportunity Reconciliation Act” ہے، جس پر اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے دستخط کیے تھے۔
اس قانون کے تحت امریکی وزیر خارجہ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ child support debt رکھنے والے افراد کے پاسپورٹ deny، restrict یا revoke کر سکیں۔ اگرچہ یہ قانون تقریباً تین دہائیوں سے موجود ہے، مگر موجودہ امریکی انتظامیہ اب اس پر زیادہ جارحانہ انداز میں عمل کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
محکمہ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے قونصلر امور مورا نمدار نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت ایک ایسے “commonsense practice” کو وسعت دے رہی ہے جو ماضی میں بھی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق صدر اور وزیر خارجہ کی قیادت میں مختلف وفاقی ادارے مل کر اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ امریکی بچوں کو وہ مالی معاونت ملے جس کے وہ حق دار ہیں۔
امریکا میں چائلڈ سپورٹ کا مسئلہ صرف چند ہزار افراد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا مالی اور سماجی بحران سمجھا جاتا ہے۔
امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات کے اندازوں کے مطابق ملک بھر میں اربوں ڈالر کی child support رقم والدین پر واجب الادا ہے، جبکہ لاکھوں والدین ایسے بھی ہیں جن کے خلاف بقایا جات کے کیسز موجود ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں تقریباً 2700 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر ایک لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ چائلڈ سپورٹ کی رقم واجب الادا ہے، تاہم مجموعی طور پر وہ تمام امریکی شہری اس پالیسی کی زد میں آ سکتے ہیں جن پر 2500 ڈالر سے زائد بقایا رقم موجود ہے۔
وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاسپورٹ پابندیوں کے ذریعے چائلڈ سپورٹ وصولی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا، اور اسی وجہ سے اب اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کرکے اس کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
اس پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ منسوخی جیسے اقدامات بعض اوقات ایسے افراد کو مزید مالی بحران میں دھکیل سکتے ہیں جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ حامیوں کے مطابق بچوں کی مالی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ آنے والے مہینوں میں عدالتوں اور سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث رہ سکتا ہے، خاص طور پر اس سوال پر کہ کیا بین الاقوامی سفر کی آزادی کو child support enforcement کے ساتھ اس حد تک جوڑا جانا مناسب ہے یا نہیں۔
اس فیصلے کے اثرات بیرونِ ملک مقیم امریکی شہریوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا پاسپورٹ اس وقت revoke ہو جائے جب وہ امریکا سے باہر موجود ہو تو اسے واپس آنے کے لیے خصوصی emergency travel document حاصل کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حکومت نے نادہندہ والدین کو فوری ادائیگی یا settlement arrangements کی ہدایت کی ہے تاکہ مستقبل میں سفری پابندیوں سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس نئی enforcement drive سے ہزاروں نہیں بلکہ ممکنہ طور پر لاکھوں امریکی متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو طویل عرصے سے عدالتی child support orders کی ادائیگی نہیں کر رہے۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں خاندانی ذمہ داریوں، مالی عدم مساوات، اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن پر بحث پہلے ہی شدت اختیار کر چکی ہے۔


























Leave a Reply