امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا گزشتہ ماہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو روک دیا۔
امریکی نشریاتی ادرے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے سینیئر ترین افسر جنرل ڈین کین نے گزشتہ ماہ خفیہ اور ہنگامی بنیادوں پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے فلوریڈا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں ایران میں زمینی فوج بھیج کر اس کے جوہری پروگرام کے اہم ترین جزو یعنی انتہائی افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینے کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ بریفنگ اتنی حساس اور فوری نوعیت کی تھی کہ جنرل ڈین کین کو برسلز میں نیٹو حکام کے اجلاس سے فوری طور پر واپس آنا پڑا۔ اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس انتہائی حساس نوعیت کی کارروائی کی منظوری دینے کے قریب تھی۔
بعد ازاں جنرل ڈین کین نے اس آپریشن کے مختلف آپشنز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی تاہم ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اس کارروائی روک دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کے ممکنہ بھاری جانی نقصان پر بھی تشویش تھی جس کے باعث انہوں نے فوج کو گرین سگنل دینے سے گریز کیا۔


























Leave a Reply