اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہےکہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے تسلسل نے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا ہے لہٰذا پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ملک ہے، ہزاروں پاکستانی شہری دہشتگردی کے باعث جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں، پاکستانی سکیورٹی فورسز کو سرحد پار سے منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سرپرستی یافتہ دہشتگردی کا سامنا ہے، کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنی خودمختاری اور شہریوں کی سلامتی کو نشانہ بنانے والے حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے تسلسل نے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا ہے، پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا، اسی تسلسل میں پاکستان نے سرحدی علاقوں میں اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں اور پاکستان افغانستان سے یقین دہانی چاہتا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
طاہر اندرابی نےمزید کہا کہ پاکستان افغانستان کےساتھ مسائل کےحل کےلیے مکالمے اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے عوام مذہب، تاریخ، ثقافت اور لسانی روابط میں گہری وابستگی رکھتے ہیں، پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
بھارت سے متعلق ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق سے متعلق صورتحال پر پاکستان کو شدید تشویش ہے، پاکستان انسانی حقوق کے معاملے پر یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کےساتھ ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا گیا۔






















Leave a Reply