سابق آسٹریلوی وکٹ کیپر بیٹر این ہیلی نے آسٹریلین بیٹرز کے اسپنرز کو کھیلنے کے انداز پر سوالات اٹھا دیے۔
این ہیلی نے کہا مجھے نہیں علم دیگر ممالک کا لیکن آسٹریلوی کھلاڑیوں کے لیے 50 اوور کی گیم مشکل ہوگئی ہے، ٹیسٹ کرکٹ میں تمام پرفارمنسز ٹریوس ہیڈ اور اسٹیو اسمتھ کے ارد گرد گھومتی ہیں، پچاس اوورز کی کرکٹ ٹیم میں کوئی بیٹر زیادہ گیندوں کا سامنا نہیں کرتا، یہ بہت زیادہ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں زیادہ باونڈریز مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سابق وکٹ کیپر بیٹر کا کہنا تھا پاکستان کے اسپنرز کے لیے آپ کو آگے بڑھ کر کھیلنا پڑتا ہے اٹیک کرنا پڑتا ہے، پاکستان کے اسپنرز کے خلاف بال مس کرنے کے خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، میں بھی خود کو کوئی ماہر نہیں مانتا لیکن میں ڈین جونز کا ضرور ذکر کروں گا، وہ حریف اسپنرز کا اثر اپنے قدموں کا استعمال کر کے ختم کر دیتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں بھی کریز میں کھڑے ہو کر بال کا انتظار کرتا اور سویپ یا کٹ شاٹ کھیلتا تھا لیکن ڈین جونز بال کی لائن پر دوڑتے تھے، ڈین جونز کو اگر آگے نکلنے کا موقع نہ ملتا تو وہ لیگ سائیڈ کے گیپ میں شاٹس کھیلتے تھے، ہمیں اس وقت ڈانسنگ پاؤں درکار ہیں تاکہ شاٹس ملیں نہ کہ کریز میں کھڑے رہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستانی اسپنرز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلوی بیٹرز کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ ون ڈے ڈیبیو کرنے والے عرفات منہاس نے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا جبکہ ابرار احمد نے دو اور سلمان علی آغا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی تھی، یوں مجموعی طور پر 8 وکٹیں اسپنرز کے حصے میں آئی تھیں۔

























Leave a Reply