ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس (ٹوئٹر) جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک کو اوپن اے آئی اور سام آلٹمین کے خلاف مقدمے میں ناکامی کا سامنا ہوا ہے۔
اوک لینڈ کی وفاقی عدالت کی جیوری نے سامن آلٹمین اور اوپن اے آئی کے خلاف ایلون مسک کی جانب سے دائر کردہ 150 ارب ڈالرز ہرجانے کے مقدمے کو خارج کر دیا ہے۔
جیوری نے قرار دیا کہ ایلون مسک کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ سام آلٹمین، اوپن اے آئی اے اور کمپنی کے صدر گریگ بروک مین نے کمپنی کی بنیاد رکھے جانے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
2024 میں ایلون مسک کی جانب سے اس مقدمے کو دائر کرتے ہوئے کہا تھا گیا کہ اوپن اے آئی کو غیر منافع بخش بنیادوں پر کام کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا مگر سام آلٹمین اور کمپنی نے ان اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
واضح رہے کہ ایلون مسک نے 2015 میں سام آلٹمین اور گریگ بروک مین کے ساتھ مل کر اوپن اے آئی کی بنیاد رکھی تھی۔
مگر 2018 میں ایلون مسک نے اوپن اے آئی سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کرلی تھی کہ اے آئی ٹیکنالوجی جوہری ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ایلون مسک اور ان کے وکلا نے دعویٰ کیا تھا کہ سام آلٹمین نے کمپنی کی قیادت کے دوران فلاحی مقصد کو ترک کر دیا، جبکہ یہ کمپنی رواں سال کے آخر تک ایک ہزار ارب ڈالرز مالیت کی کمپنی کے طور پر حصص عوام کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
جیوری نے اپنی رائے میں فیصلہ جج کے اوپر چھوڑا اور جج Yvonne Gonzalez Rogers نے اپنے فیصلے میں جیوری سے اتفاق کرتے ہوئے ایلون مسک کے مقدمے کو خارج کر دیا۔
جج نے اپنے فیصلہ سنانے کے بعد کہا کہ ‘میرے خیال میں ایسے شواہد موجود ہیں جو جیوری کی رائے کو تقویت پہنچاتے ہیں، جس کے باعث میں مقدمے کو فوری طور پر خارج کر رہی ہوں’۔
بعد ازاں عدالت کے باہر پریس کانفرنس کے دوران اوپن اے آئی کے وکیل ولیم سیوٹ نے کہا کہ جیوری نے سیکڑوں شواہد کا جائزہ لیا اور ہفتوں تک گواہوں کے بیانات کو سننے کے بعد دریافت کیا کہ ایلون مسک کا مقدمہ بنیادی طور پر اپنے ایک حریف کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ایلون مسک اپنی کہانیاں بیان کرسکتے ہیں، مگر جیوری نے دریافت کیا کہ یہ سب کہانیاں ہیں، حقیقت نہیں، یہ کوئی تکنیکی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس اور حقیقی فیصلہ ہے’۔
ایلون مسک کے وکلا نے کہا کہ مقدمے نے اوپن اے آئی کی حقیقت ظاہر کی ہے۔
ایلون مسک نے اس حوالے سے ایک ایکس پوسٹ میں کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
عدالتی فیصلے کے موقع ایلون مسک، سام آلٹمین یا گریگ بروک مین عدالت میں موجود نہیں تھے۔
اس مقدمے کی سماعت 3 ہفتے تک چلی جس دوران ایلون مسک، سام آلٹمین، مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا اور متعدد افراد گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔

























Leave a Reply