سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پاک فوج کے ایک افسر کو منشیات اسمگل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔
یہ دعویٰ جھوٹا ہے، یہ ویڈیو پرانی ہے اور اس میں فوج کا کوئی حاضر سروس افسر موجود نہیں ہے۔
دعویٰ
15 مئی کو صارف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک منٹ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں خیبر پختونخوا میں منشیات اسمگل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے پاک فوج کے ایک میجر کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو ایک گاڑی کی تلاشی لیتے اور اس کی پچھلی نشست اور ڈگی سے بڑے تھیلے اور پیکٹ برآمد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اس آرٹیکل کے لکھے جانے تک ویڈیو کو 2 لاکھ 11 ہزار بار دیکھا، 9 ہزار 800 مرتبہ لائک اور 3 ہزار 800 دفعہ ری پوسٹ کیا گیا۔
اسی طرح کے دعوے ایکس ، فیس بک اور انسٹاگرام پر بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
حقیقت
جیو فیکٹ چیک کی جانب سے کی گئی ریورس امیج سرچ سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو اپریل 2023 کی ہے اور اس وقت متعدد میڈیا اداروں نے بڑے پیمانے پر اس کی رپورٹنگ کی تھی۔
یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے علاقے نوشہرہ میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف ایکسائز پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران پیش آیا تھا، حکام نے پاک فوج کی جعلی وردی پہنے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جو مبینہ طور پر اپنی گاڑی میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق، حکام نے کار سے لاکھوں روپے مالیت کی 60 کلو گرام چرس برآمد کی تھی۔
ویڈیو میں نظر آنے والا شخص پاک فوج کا حاضر سروس افسر نہیں تھا۔
اس واقعے کی رپورٹنگ ڈان (Dawn) اور وی نیوز (We News) نے کی تھی۔
فیصلہ: دعویٰ غلط ہے، یہ ویڈیو 2023 کی ہے اور اس میں پاک فوج کے کسی حاضر سروس افسر کو منشیات اسمگل کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہوئے نہیں دکھایا گیا۔
اس میں ایک ایسے شخص کو دکھایا گیا ہے جس نے فوج کے افسر کا روپ دھار رکھا تھا اور اسے نوشہرہ میں منشیات کے خلاف ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔
اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔

























Leave a Reply