اگر آپ روزانہ الٹرا پراسیس غذاؤں کو کھانا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت امراض قلب اور موت کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھا دیتی ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
ان غذاؤں کو متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر سے منسلک کیا جاتا ہے۔
یورپین جرنل ہارٹ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے عناصر جیسے موٹاپے، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے دائمی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جو افراد ان غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں امراض قلب کا خطرہ 19 فیصد، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کا خطرہ 13 فیصد جبکہ امراض قلب سے موت کا خطرہ 65 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں سے موٹاپے، ذیایبطس ٹائپ 2، ہائی بلڈ پریشر اور دوران خون میں نقصان دہ چربی کے اجتماع کا عمل بدتر ہو جاتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل جون 2025 میں برایل کی ساؤ پاؤلو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال اور کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کے درمیان تعلق موجود ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ درحقیقت الٹرا پراسیس غذاؤں کے ہر 10 فیصد اضافے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 3 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 8 ممالک میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
امریکا دنیا کا وہ ملک ہے جہاں الٹرا پراسیس غذاؤں کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکی شہریوں کی پسندیدہ غذاؤں سے ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ 14 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
محققین کے مطابق ماضی میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال کو کینسر، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر سمیت 32 امراض سے منسلک کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان غذاؤں سے صحت پر مرتب اثرات بہت سنگین ہوتے ہیں۔
اس سے قبل دسمبر 2024 میں آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال ہمیں قبل از وقت بڑھاپے کا شکار بنا دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ غذائیں حیاتیاتی عمر میں اضافے کی رفتار کو تیز کر دیتی ہیں۔
واضح رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔
جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔
اس تحقیق میں 20 سے 79 سال کی عمر کے 16 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی اور ان کی صحت اور طرز زندگی کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال اور حیاتیاتی عمر کی رفتار میں اضافے کے درمیان واضح تعلق دریافت کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کی مقدار میں ہر 10 فیصد اضافے سے حیاتیاتی عمر اور کرانیکل ایج کے درمیان 2.4 ماہ کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔
جو افراد روزانہ کی 68 سے 100 فیصد کیلوریز الٹرا پراسیس غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں، وہ 2 ماہ میں حیاتیاتی طور پر اصل عمر سے لگ بھگ ایک سال بڑے ہو جاتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں پراسیس غذاؤں کا کم از کم استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال میں اضافے سے حیاتیاتی عمر میں اضافہ ہوتا ہے جس سے قبل از وقت موت کا خطرہ لگ بھگ 2 فیصد جبکہ کسی بھی دائمی مرض کا خطرہ 0.2 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔


























Leave a Reply