اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہےکہ اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کے بعد سفارتی رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، نئی اور پرانی تمام تجاویز زیر غور ہیں ، پاکستان کو دونوں فریقین نے اعتماد میں لیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ تمام تجاویز کو خفیہ رکھتے ہوئے سفارتی چینلز کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطوں میں ہیں، آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم گزر گاہ ہے، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات ہو رہے ہیں ، معمول کی بحالی ضروری ہے ، امید ہے ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری سے خطے میں امن و استحکام قائم ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم فریقین کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لیے فعال طور پر مصروف ہیں اور ایک مذاکراتی تصفیے کی امید رکھتے ہیں اور علاقے میں امن و ترقی کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گےاگر دونوں فریق براہ راست بات چیت کریں تو یہ مثبت پیش رفت ہوگی، پاکستان کی سہولت کاری کا کردار جاری رہے گا، ہم براہ راست مذاکرات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ بدھ 29 اپریل اور ہفتہ کو جنوبی وزیرستان کے انگوڑ اڈہ سمیت آس پاس کے علاقوں میں افغان فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور شیلنگ کی گئی۔ نتیجے میں متعدد عام شہری زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور تین، آٹھ اور دس سال کے بچے بھی شامل ہیں, کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔مقامی قبائلی عمائدین اور رہائشیوں نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور فوری طور پر ان کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے، یہ پہلی بار نہیں جب سرحد پار سے ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن امداد دی جا رہی ہے اور مقامی آبادی کی حفاظت کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد گروہوں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان سمیت فتنہ الخوارج کے لیے پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے افغان طالبان انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی، اسپانسرنگ اور انجینئرنگ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
ترجمان نے کنڑ صوبے میں مبینہ حملوں پر افغان الزامات کو جھوٹاور پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ یہ حقیقت سے دور ہیں۔


























Leave a Reply