کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ آپ اپنے ہاتھ کی پشت کو تو دیکھ سکتے ہیں مگر چہرے پر موجود ناک کو نہیں۔
جی ہاں واقعی ناک ہر وقت آپ کی آنکھوں کے بالکل نیچے موجود ہوتی ہے مگر ہم میں سے بیشتر اسے آئینے کے بغیر نہیں دیکھ پاتے۔
اس کا جواب آپ کی توقعات سے بھی زیادہ عجیب ہے۔
ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ آپ اپنی ناک کو دیکھتے ہیں، جی ہاں واقعی ہر وقت دیکھتے ہیں، کیونکہ وہ ہماری نگاہ کی حد کے اندر ہی موجود ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ہم توجہ مرکوز کرتے ہیں یا آنکھوں کو سکیڑتے ہیں تو ہم دماغ کو یہ قبول کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ناک آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔
البتہ زیادہ تر وقت ہمارا دماغ اسے نگاہوں کے سامنے سے غائب رکھتا ہے۔
یہ ایسا قدرتی مظہر ہے جو بتاتا ہے کہ ہم اردگرد کی دنیا کے بارے میں جیسا سوچتے ہیں، ہماری آنکھیں ویسی ہی دنیا دکھاتی ہیں۔
مگر ایسی دلچسپ وجوہات موجود ہیں جن کے باعث ہماری آنکھیں ناک کی موجودگی کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔
اب یہ سادہ بائیو فزکس ہو، تحفظ کے اہم میکنزم یا مسلسل آدھے سر کے درد کے ساتھ زندگی گزارنے سے بچانا، ایسی متعدد وجوہات موجود ہیں۔
ویسے اگر آپ اپنی ایک آنکھ بند کریں تو آپ کو فوری احساس ہوگا کہ آپ اپنی ناک کو دیکھ رہے ہیں۔
مگر یہ کوئی زیادہ اچھا نظارہ نہیں ہوتا۔
ناک ہماری محیطی بینائی کے دائرے میں ہوتی ہے اور آنکھوں کے اتنے قریب ہے کہ یہ مسلسل توجہ سے دور رہتی ہے، چاہے وہ حقیقی معنوں میں ہمارے سامنے ہی کیوں نہ موجود ہو، کیونکہ وہ دیکھنے میں کوئی اچھی چیز نہیں تو آخر دیکھنے کی زحمت کیوں کریں؟
ماہرین کے مطابق ہماری آنکھوں کا لینس بہت قریب موجود اشیا پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتا اور ناک انسانی بینائی کی کم از کم توجہ مرکوز کرنے والی حد میں موجود ہوتی ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کبھی بھی ہماری بینائی کے لیے بہترین حد کا حصہ نہیں ہوتی بلکہ نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
کچھ محققین کے خیال میں ناک اس لیے ہمیں نظر نہیں آتی کیونکہ دماغ اسے ماحول کا حصہ قرار نہیں دیتا اور بس نظر انداز کر دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری بینائی کا نظارم واضح چیزوں کو ترجیح دیتا ہے یعنی اہم اشیا یا واقعات اس کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔
مگر ناک نہ صرف قریب ہے بلکہ دونوں آنکھوں کے درمیان موجود ہے، تو ہر آنکھ کی دیکھنے کی حد کو 15 فیصد بلاک کرنے کے باوجود وہ کسی ایسی رکاوٹ کی طرح ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی یا یوں سمجھ لیں کہ یہ کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے آپ کھڑکی کے آرپار دیکھ رہے ہوں۔
ناک کو نہ دیکھنے کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں۔
مجموعی طور پر دونوں آنکھیں ناک کو نظر انداز کرکے اتنا دیکھ لیتی ہے کہ وہ اردگرد کی دنیا کی تصویر تیار کرلیتی ہیں۔
درحقیقت اس کا دلچسپ یا اہم جواب یہ بھی ہے کہ کہ ہمیں ہر وقت ناک دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
ماہرین کے مطابق ہمارا دماغ ‘بیکار’ اشیا کو نظرانداز کر دیتا ہے اور یہی چیزیں ہمیں باشعور اور زندہ رکھتی ہے، اگر دماغ ہر نظر آنے والی تفصیل کا تجزیہ مساوی انداز سے کرے تو ہم کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر آپ چشمہ پہنتے ہیں تو آپ فریم یا کئی بار تو چہرے پر اس کی موجودگی کو بھی محسوس نہیں کرتے۔
ایسی چیزیں جو بدلتی نہیں یا خطرناک نہیں ہوتیں یا اہم نہیں ہوتیں، انہیں ہمارا دماغ ترجیح نہیں دیتا تاکہ توانائی بچا سکے۔
ماہرین کے مطابق ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے کہ دنیا کیسے بدل رہی ہے، ہمارے سامنے کیا حیران کن یا خامیاں موجود ہیں اور کیا کچھ ناقابل پیشگوئی ہے، تو اگر دماغ کا کچھ حصہ ناک کو دیکھنے پر توجہ مرکوز کرے تو اس کی توانائی ضائع ہوتی ہے۔


























Leave a Reply