سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ریلوے نے تمام ریلوے اسٹیشنوں پر تصاویر بنانے یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔
پوسٹس میں مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب فلم بندی کی تمام سرگرمیوں کے لیے پہلے سے تحریری اجازت نامہ درکار ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو تادیبی اور قانونی کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔
یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے۔ نیا ہدایت نامہ صرف ریلوے ملازمین کے لیے ہے، عام عوام کے لیے نہیں۔
27 اپریل کو صارف نے ایک گرافک شیئر کیا جس پر درج تھا: ”پاکستان ریلوے نے ویلاگرز کی جانب سے بغیر اجازت فلم بندی اور فوٹو گرافی کو جرم قرار دے دیا ہے۔“
پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان ریلوے نے اپنی حدود میں فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی پر سخت پابندی عائد کر دی ہے، جس کی زد میں صحافی، ویلاگرز، بلاگرز، انفلوئنسرز اور دیگر مواد تخلیق کرنے والے افراد آتے ہیں۔
اس میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت، فلم بندی یا فوٹو گرافی کی اجازت صرف ریلوے ہیڈ کوارٹرز سے پیشگی تحریری اجازت کے ساتھ دی جائے گی اور ان ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے۔
اس آرٹیکل کے شائع کیے جانے کے وقت تک پوسٹ کو1 ہزار 800 مرتبہ لائک اور اس پر 30 کمنٹس بھی کئے گئے۔
اسی طرح کے دعوے ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، فیس بک اور انسٹاگرام پر بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
حقیقت
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ریلوے اسٹیشنوں پر شہریوں یا مواد تخلیق کرنے والوں (کانٹینٹ کریئیٹرز) کے فوٹو گرافی یا ویڈیو بنانے پر ایسی کوئی نئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ یہ ہدایت نامہ صرف ریلوے ملازمین کو بغیر اجازت سرکاری دستاویزات، تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے سے روکتا ہے۔
پاکستان ریلوے کے ترجمان، بابر علی رضا نے جیو فیکٹ چیک کو ٹیلی فون پر بتایا کہ وائرل ہونے والا دعویٰ گمراہ کن ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں یا صحافیوں کے لیے ریلوے کی حدود میں فلم بندی پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔
بابر علی رضا نے کہا: ”جو آپ وی لاگز روٹین میں دیکھتے ہیں ان کی پہلے بھی اجازت تھی ابھی بھی ہے اس میں کوئی پابندی نہیں ہے، پابندی صرف وہی ہے جو پہلے حساس علاقوں کی تھی وہ پہلے بھی تھی ابھی بھی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ اس ہدایت نامے کا مقصد ان ریلوے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے جو ممنوعہ مقامات پر غیر مجاز ریکارڈنگ میں سہولت فراہم کرتے ہیں یا ایسی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔
بابر علی رضا کا کہنا تھا کہ ”ہمارے سامنے کچھ ایسی ویڈیوز اور تصاویر آئیں کہ ملازمین نے ٹرین کے انجن میں لوگوں کوبٹھا لیا جنہوں نے اس کی ویڈیوز بنائیں یا خود سے شوٹ کر کے آگے دی تو ان خلاف سختی ہوئی ہے۔“
ان کے مطابق، ممنوعہ علاقوں میں انجن ورکشاپس شامل ہیں جہاں مرمت اور دیکھ بھال کا کام ہوتا ہے، اس کے علاوہ پل، سگنلنگ اور آپریشنز کے لیے استعمال ہونے والے اسٹیشن کیبنز اور وہ کنٹرول رومز جہاں مانیٹرنگ کی جاتی ہے، بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
علاوہ ازیں، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے بھی اپنے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ایک ہدایت نامہ شیئر کیا جس میں واضح کیا گیا کہ پاکستان ریلوے کے ملازمین کو پیشگی اجازت کے بغیر سرکاری معلومات، دستاویزات، تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
دستاویز میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ عوامی مقامات پر صحافیوں اور مجاز ویلاگرز کی معمول کی کوریج حسبِ معمول جاری رہے گی اور اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا رہی۔
فیصلہ: پاکستان ریلوے کی جانب سے ریلوے اسٹیشنوں پر فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی پر مکمل پابندی کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ ہدایت نامہ صرف ریلوے ملازمین پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا تعلق سرکاری یا حساس مواد شیئر کرنے سے ہے۔ صحافیوں اور ویلاگرز سمیت عام عوام پہلے کی طرح عوامی مقامات پر فلم بندی جاری رکھ سکتے ہیں۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply