اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں کا تبادلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ بار نے حامد خان کے ذریعے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ یہ درخواست آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت دائر کی گئی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججوں کا ٹرانسفر آرٹیکل 2 اے کے منافی ہے ، ججوں کے ٹرانسفر کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے ۔
درخواست میں کہا گیا کہ ٹرانسفر کی وجوہات نہیں بتائی گئیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کو مختلف ہائی کورٹس میں ٹرانسفر کرنا غیر آئینی ہے ۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت وجود میں آئی ، اس لیے وہ کیس نہیں سن سکتی ، جوڈیشل کمیشن نے جسٹس بابر ستار، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت کے تبادلے کیے ہیں ۔
یاد رہے کہ منگل کے روز جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 جج صاحبان کے تبادلوں کی منظوری دی تھی۔ تینوں ججز کے تبادلوں کے فیصلے کثرت رائے سے کیےگئے۔
وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے پشاور ہائیکورٹ جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے سندھ ہائیکورٹ تبادلہ کیا گیا۔


























Leave a Reply