اسلام آباد (25 اگست 2026): اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کرنے پر دائر توہین عدالت کی درخواست کو سماعت کیلیے مقرر کر دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان کی توہین عدالت کی درخواست 16 ستمبر 2026 کو سماعت کیلیے مقرر کر دی ہے۔
18 ستمبر 2026 تک جاری کیے گئے عدالتی روسٹر کے مطابق عمران خان کے اسپتال منتقلی کیس کی سماعت کرنے والا بینچ 14 سے 16 ستمبر تک دستیاب ہوگا، جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 14 ستمبر سے باقاعدہ سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس نعیم افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں۔
عدالتی روسٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی اسپتال منتقلی کیس 16 ستمبر کو سماعت کیلیے مقرر ہے، 18 اگست کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظر ثانی درخواست پر بھی 16 ستمبر کو سماعت ہوگی۔
حکومت اور پی ٹی آئی کی جلد سماعت کی درخواستوں پر رجسٹرار آفس نے نمبر لگا دیے، درخواستوں کی سماعت فکسیشن پالیسی کے تحت باری پر کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت نوعیت کی 94 درخواستیں زیر التوا ہیں، 16 ستمبر کو تین رکنی بنچ کی دستیابی پر درخواستوں کی سماعت ممکن ہوگی، عمران خان کے اسپتال منتقلی کیس سمیت دو اہم درخواستوں کی سماعت 16 ستمبر کو ہوگی۔
عظمیٰ خان نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ توہین عدالت کے مرتکبین کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں اور ذمہ دار افراد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
انہوں نے عدالت سے عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے اور وہاں ان کا طبی معائنہ کروانے کی بھی استدعا کی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کیلیے عدالتی افسر یا لوکل کمیشن مقرر کیا جائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا، تاہم حکومت نے سابق وزیر اعظم کا طبی معائنہ پمز سے کروا کر انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کیا تھا۔
