Preloader

کراچی: میر رضا کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو خط میں 24 سوال لکھ کر اب تک کسی کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ میں کسی جج صاحب کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھا سکتا لیکن اگر یہ صوبے کے بس کی بات نہیں ہے یا جج جو آئیں گے انہیں اسسٹ تو یہی پولیس ٹیم کرے گی جو 15 دن میں کچھ ثابت نہیں کرسکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل اور سفید آلٹو کا پتا نہیں چل سکا، ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہم رات کو کھڑے ہوکر کتنی سفید آلٹو گاڑیاں روکی ہیں، میں نے سیٹ بیلٹ پہنی ہے یا نہیں، گاڑی چلاتے ہوئے موبائل استعمال تو نہیں کررہا ہے اس پر تو آپ کا کیمرہ دس ہزار روپے کا چالان بھیج دیتا ہے مگر اس کیس میں آپ کیمرہ ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کررہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ ہم 1950 کی دہائی میں آگئے ہیں یہ تفتیشی میکنزم استعمال ہورہے ہیں۔

واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیےجوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے جس کے سربراہ جسٹس عمرسیال ہوں گے، حکومت سندھ کی درخواست پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

یہ پڑھیں: میر رضا کیس: جسٹس عمرسیال پر مشتمل سنگل ممبر انکوائری کمیشن تشکیل

میئر کراچی مرتضٰی وہاب کا کہنا ہے کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن میر رضا کو انصاف دلانے کے لیے بنایا ہے 19 اگست کو وکیل نے وزیراعلیٰ کو خط میں لکھا وزیر داخلہ، آئی جی اور پولیس مکمل طور پر فیل ہوگئے ہیں آپ وزیراعلیٰ ہیں امید ہے انصاف ہوگا۔

واضح رہے کہ مقتول میر رضا کے اہلخانہ نے جوڈیشل کمیشن کے خلاف درخواست دائر کردی ہے، سندھ ہائیکورٹ نے فریقین کو 31 اگست کے لیے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

علاوہ ازیں میر رضا قتل کیس میں تفتیشی افسر نے رپورٹ جمع کروانے کے لیےمزید مہلت مانگی اور کہا کہ موبائل فون اور دیگر اشیا کی فرانزک رپورٹ آنا باقی ہے جس کے عبد عدالت نے 7 ستمبر تک رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *