پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل) میں ملتان سلطانز کی واپسی پر سلطانز کے سابق مالک علی ترین کا ردعمل سامنے آگیا۔
پی ایس ایل 11 میں شامل ہونے والی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کو باضابطہ طور پر ملتان سلطانز کے نام سے ری برانڈ کر دیا گیا ہے۔
اس تبدیلی کی تصدیق منگل کے روز پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر نے کی۔
یہ اعلان ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں سلمان نصیر، فرنچائز کے مالک حمزہ مجید اور سی ڈی وینچرز کے سربراہ گوہر شاہ شریک تھے۔
او زیڈ ڈیولپرز نے اسلام آباد میں ہونے والی ٹیم نیلامی کے دوران سیالکوٹ اسٹالینز کی فرنچائز 10 سال کے لیے 185 کروڑ روپے میں حاصل کی تھی تاہم اب اس نے سی ڈی وینچرز کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کر لی ہے۔
اس شراکت کے تحت گوہر شاہ کو فرنچائز کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا ہے اور فرنچائز کا نام تبدیل کرکے ملتان سلطانز رکھا گیا ہے۔
پی ایس ایل میں ملتان سلطانز کی واپسی پر سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا۔
علی ترین نے کہا کہ ملتان سلطانز کے ساتھ 7 برس گزارنے کے بعد میں نے یہ سفر بغیر کسی پچھتاوے کے ختم کیا۔ میری زندگی کے اس باب نے مجھے میرے کچھ قابلِ فخر ترین لمحات دیے، اور میں اس کے لیے ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ واحد لمحہ جس نے مجھے واقعی متاثر کیا، وہ تھا جب ملتان کو لیگ سے نکال دیا گیا۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا ، اس لیے نہیں کہ اس کا مجھ پر کیا اثر پڑا، بلکہ اس لیے کہ اس کا اثر مداحوں اور جنوبی پنجاب کے لوگوں پر کیا پڑا۔
علی ترین نے کہا کہ جنوبی پنجاب ہمیشہ کم نمائندگی کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے لوگ پُرجوش، باصلاحیت ہیں اور ہر اس پلیٹ فارم کے حق دار ہیں جو انہیں مل سکتا ہے۔ ملتان سلطانز محض ایک کرکٹ ٹیم نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے پورے خطے کی شان اور پہچان کی علامت تھی جسے طویل عرصے سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نمائندگی کے لیے لڑنے کے لیے ایسے ہی پُرجوش لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے خطے کی حقیقی فکر رکھتے ہوں۔ اسی لیے میں گوہر شاہ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے لوگوں کے لیے آواز اٹھائی اور ملتان سلطانز کو پاکستان سپر لیگ میں واپس لائے۔ شہر کو اپنی ٹیم دوبارہ مل گئی ہے، اور جنوبی پنجاب کو اپنی آواز دوبارہ مل گئی ہے۔


























Leave a Reply