Preloader

بہت پرانی بات ہے کہ گلی پارچہ میں محل سرا کے پھاٹک کے پاس بنی ایک ننھی سی مسجد میں مظفر نامی ایک مؤذن صاحب رہتے تھے۔ اذان دینے کے علاوہ گزر اوقات کے لئے وہ کامدانی بھی بنایا کرتے تھے اور اپنے اس فن میں بھی ماہر تھے۔

ہمارے محلّے کی تمام بیبیاں ان ہی سے کامدانی بنواتی تھیں۔ سفید براق لباس میں ملبوس، نورانی چہرہ اور سفید داڑھی والے مظفر صاحب۔

کامدانی اور چکن کے خاکے آج بھی گلی پارچہ کے چوک والے حصّے میں گہرے گلابی رنگ اور گوند کے مکسچر سے چھیپی لوگ ہی چھاپتے ہیں۔ اس کام میں بھی بڑی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر چھاپا ہی غلط چھپا تو کام بھی غلط ہی بنے گا۔ چوک کے بازار سے کامدانی بنانے کے سونے چاندی کے تار تولہ کے حساب سے لچکے گوٹے بیچنے والے لالاؤں کی دکان سے خریدے جاتے ہیں۔ ہمارا تعلق اسی علاقے سے ہے، سو دوسروں کی طرح ہم بھی، زردوزی کا کام بنانے والوں، رنگریزوں اور کامدانی بنانے والے ماہرینِ فن کی تھوڑی معلومات رکھتے ہیں۔ کیونکہ بچپن میں قرب و جوار سے آنے والی تمام رشتہ دار بیبیوں کے کام کے لئے ان ماہرین کو اپنی آیا اماں کے ساتھ جا کر ہم بھی بلا کر لاتے تھے۔ وہ لالہ ہوں یا منن یا چھوٹے صاحب یا پیارے صاحب۔ مظفر صاحب بزازہ کامدانی بہت عمدہ بناتے تھے۔ ایک بار جمال میاں کی بی بی کے دوپٹے پر غلطی سے بزازہ کے بجائے موٹے دانے کی کامدانی بن گئی تھی اور وہ بہت ناراض تھیں۔ مظفر صاحب جیسی کامدانی اس وقت بہت کم لوگ بنا پاتے تھے۔ وہ کلکتے جارہے تھے کہ درمیانِ سفر ٹرین میں ہی ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔

اندرون فرنگی محل مسجد میں بھی عبد الستار نامی ایک مؤذن صاحب تھے جو عرف عام میں پنّا شاہ کہلاتے تھے۔ وہ بھی خوب کامدانی بنایا کرتے تھے۔ میاں لوگوں کے متروک کُرتے اور انگرکھے جو انہیں مل جایا کرتے تھے، وہ خود ان کپڑوں پر کامدانی بناتے تھے اور مخصوص موقعوں پر زیب تن کیا کرتے تھے۔ عجیب سی مگر اچھی بات تھی کہ مؤذن حضرات فرصت کے اوقات میں کامدانی بناتے تھے۔
کامدانی کے ننھے ننھے تارے، اور ٹکلی اندر رکھ کر موٹے موٹے دانے اور چھلّے بنائے جاتے ہیں۔ اس کام میں نزاکت اور صفائی شرطِ اوّل ہے۔ چھترا چھترا کام اچھا نہیں مانا جاتا۔ کام بنانے کے بعد تمام کام کی گھٹائی ہوتی ہے۔ جو بیضاوی شکل کے ایک چکنے پتھر سے کی جاتی ہے تاکہ مہین تاروں کے کنارے اچھی طرح دب جائیں اور جسم پر گڑیں نہیں۔

مظفر صاحب اور پُنّا شاہ کے ساتھ ہی ہمارے گھر کے ایک پروردہ رحمت چچا کی بی بی بھی بہترین کامدانی بناتی تھیں۔ رحمت چچا بہت بیمار رہتے تھے اور محلّے ہی کے ایک شکستہ گھر مہندی والے گھر میں اپنی بی بی اور بیٹے کے ساتھ رہتے تھے۔ مہندی والے گھر میں مہندی کی باڑھ لگی تھی اور وہ گھر ہماری دادی کا نانیہال بھی تھا۔ ہمارے گھر کی تمام کامدانی رحمت چچا کی بی بی ہی بناتی تھیں۔ ہماری امی نے ہماری پھوپھی کی شادی کے کئی دوپٹّے مختلف ڈیزائن کے انہی کو بننے دیے تھے۔خود پھوپھو نے بھی اپنی سہیلی کے کچھ دوپٹے مختلف ڈیزائن کے انہی کو بنانے کو دیے تھے۔

پارچہ والی گلی ہی میں ہرن والے پارک کے چھتے کے پاس ایک دکان میں دو صاحبان بیٹھا کرتے تھے اور بہت خاموشی سے کامدانی بنایا کرتے تھے۔ بہترین کاریگر… شاید دونوں استاد شاگرد تھے۔ بہت ہی کم اجرت میں کپڑے پر ایسی حسین چاندنی بکھیرتے تھے کہ دیکھنے والا عش عش کر اٹھے۔ اس قدر سرعت اور مہارت سے دونوں کے ہاتھ چلا کرتے تھے جیسے کوئی مشین فٹ ہو۔ لکھنؤ کی تہذیب اور شائستگی کی زندہ مثال تھے۔ دونوں بھی خود سے اجرت نہیں طلب کرتے تھے اور ادھار پر بھی کام کر دیا کرتے تھے اور جو گاہک نے دے دیا اس پر ہی توکل علی اللہ کر لیا کرتے تھے۔ ایسے حالات میں دکان کا کرایہ تک ادا کرنا مشکل ہو گیا اور دونوں کی آنکھیں اور انگلیاں تھک گئیں۔ آخر ایک دن استاد اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور شاگرد بددل اور دکان بند۔

گلی پارچہ سے گزرنے والے اور ان دونوں کے کام کے قدر داں بہت عرصے تک ان کی کمی محسوس کرتے رہے۔

(ادیب اور شاعرہ فرزانہ اعجاز کی کتاب “آنکھ نے جو کچھ کہ دیکھا” سے اقتباس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *