تصور کریں کہ آپ چمگادڑوں سے بھری کسی تنگ تاریک غار میں پھنس جائیں تو کیا کریں گے؟
یقین کرنا مشکل ہوگا مگر امریکی شہر نیویارک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو ایسا تجربہ ہوا۔
بروکلین سے تعلق رکھنے والا شخص ریاست نیویارک کے علاقے Canaan میں واقع مارلن غار میں گیا تھا۔
مقامی فارسٹ رینجرز اہلکاروں نے بتایا کہ یہ شخص دوستوں کے ساتھ اس غار کے اس حصے کو دیکھ رہا تھا جسے بیئر ٹریپ کہا جاتا ہے۔
یہ ایک بہت زیادہ تنگ راستہ ہے اور اس کے نیچے ایک چشمہ بہتا ہے۔
اہلکاروں نے بتایا کہ اس چٹان میں بہت زیادہ پھسلن ہے اور وہ شخص غلط مقام پر پھسل کر اندر چلا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پھسلنے کے دوران وہ کچھ آگے گیا اور تنگ جگہ پر بہت بری طرح پھنس گیا اور خود کو نکالنے کی کوشش میں مکمل طور پر بے بس ہوگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا پورا جسم چٹان کے درمیان پھنس گیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ یہ چٹان بالکل اسی لیے بنی تھی۔
ویسے تو یہ شخص غار کے دہانے سے محض 400 فٹ دور تھا مگر وہ بہت بری طرح پھنس گیا تھا اور 6 گھنٹوں تک آزاد نہیں ہوسکا۔
اس کے دوستوں نے غار سے باہر نکل کر امداد کے لیے فون کیا اور امدادی ٹیم رات 9 بجے پہنچی۔
وہاں اس شخص کے 3 دوست موجود تھے جو اسے باہر نکالنے میں مدد کر رہے تھے۔
اہلکاروں نے 2 گھنٹوں تک محنت کرکے اس کے جسم کو 6 سے 10 انچ تک سرکایا اور پھر ڈرلنگ اور ہتھوڑے کی مدد سے اسے آزاد کرالیا۔
اسے رات 2 بجے وہاں سے نکالا گیا اور 6 گھنٹے تک پھنسے رہنے کے باوجود وہ امدادی ٹیم کے کام کے دوران مذاق کرتا رہا۔
اس شخص کا علاج کرایا گیا مگر خوش قسمتی سے وہ زخمی نہیں ہوا تھا۔


























Leave a Reply