ایک ایسے وقت میں جب قومی کرکٹ ٹیم کے 49 کھلاڑیوں کا کیمپ دو مختلف فارمیٹس کے لیے لاہور میں جاری ہے وہیں اطلاعات ہیں کہ ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد ہی ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
39 سال کے سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر سرفراز احمد جو پاکستان کے لیے 54 ٹیسٹ 117 ون ڈے اور 61 ٹی 20 کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں، انہیں پاکستان انڈر 19 ٹیم سے قومی ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ کے لیے دورہ بنگلا دیش کے 2 ٹیسٹ کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں،جہاں قومی ٹیم کو میرپور اور سلہٹ میں کھیلے جانے والے دونوں ٹیسٹ میچوں میں شکست کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا تھا۔
شکست کے بعد قیاس آرئیاں تھیں کہ سرفراز احمد کی بطور ٹیسٹ ٹیم ہیڈ کوچ چھٹی ہو نے جارہی ہے اور ان کی جگہ سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان ذمہ داریاں سنبھالنے جا رہے ہیں تاہم لاہور میں ریڈ بال ٹیم کے ہیڈ کی حیثیت سے 22 کرکٹرز کی سربراہی کرنے والے سرفراز احمد کو اطلاعات ہیں کہ بورڈ نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے کلین چٹ دے دی ہے۔
تاہم ان کے مستقبل کے حوالے سے ان دونوں دوروں کے نتائج اہمیت کے حامل ہوں گے۔
دوسری طرف ٹیسٹ ٹیم کے قائد اور پاکستان کے لیے 46 ٹیسٹ میچوں میں 2653 رنز بنانے والے بائیں ہاتھ کے بلے باز شان مسعود کی قومی ٹیم میں جگہ تو پکی ہے۔
تاہم ان کی قیادت کے حوالے سے ابہام موجود ہیں، چند روز قبل لاہور میں ٹیسٹ کپتان شان مسعود کی چیئرمین پی سی بی سید محسن رضا نقوی سے ملاقات ہوچکی ہے۔
البتہ بطور کپتان شان مسعود کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، ایک جانب ٹیسٹ کپتان کی قیادت میں قومی ٹیم 16 میں سے 12 ٹیسٹ ہار چکی ہے لیکن البتہ بطور کپتان ان کی پرفارمنس خاصی معیاری دکھائی دے رہی ہے جہاں 16 ٹیسٹ کے دوران شان مسعود 2 سنچریوں اور 10 نصف سنچریوں کے ساتھ 1065 رنز بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔
شان مسعود کی جگہ آل راؤنڈر اور ٹی 20 کپتان سلمان علی آغا ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے مضبوط امیداوار ہیں، البتہ پاکستان کے لیے 25 ٹیسٹ میں 1663 رنز بنانے والے دائیں ہاتھ کے بلے باز نے انگلینڈ میں کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا ہے، اس کے برعکس شان مسعود 2016 اور 2020 میں قومی ٹیم کے لیے انگلینڈ میں 5 ٹیسٹ کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں ۔
یہی نہیں انگلش کاؤنٹی یارکشائر اور ڈربی شائر کی قیادت بھی کر چکے ہیں اور یہ بات ان کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی ہےکیونکہ دورہ انگلینڈ میں انگلش میڈیا کو شان مسعود بطور کپتان بہتر انداز میں ہینڈل کر سکتے ہیں ۔
اور یہ تمام باتیں پی سی بی تھنک ٹینک کے لیے اہمیت کی حامل ہیں، اگرچہ سلمان علی آغا کو سلیکشن کمیٹی کے اہم اراکین کی حمایت حاصل ہے لیکن انگلینڈ کے مشکل اور کٹھن دورے پر جہاں گراونڈ اور گراونڈ سے باہر ہمیشہ قومی ٹیم کے لئے مسائل رہے ہیں، وہاں بطور کپتان شان مسعود کے بغیر میدان میں اترنا پی سی بی کے لیے ایک چیلنج ہوگا اور اسی حوالے سے شان مسعود کو قیادت سے ہٹانے یا رکھنے کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔


























Leave a Reply